ایرانی بارڈر کی بندش کے باعث تیل کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے،عمر گورگیج

نوکنڈی:پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماسابق وفاقی وزیر سردارمحمدعمرگورگیج نے کہاہے کہ ایرانی تیل سے منسلک رخشان ڈویژن کے کاروباری طبقوں کی تنازعے کے باعث اس روزگار سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کی بندش پر شدید تشویش ہے ان خیالات کااظہار سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماسردارمحمدعمر گورگیج نے گذشتہ روز(آن لائن نیوز)کواپنے انٹریوز میں کیا انہوں نے کہاکہ رخشان ڈویژن ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور اس ڈویژن میں شامل چاغی نوشکی خاران اور واشک کے عوام ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ حفاظتی باڈ کے باعث جو انٹری پوائنٹس بند کئے گئے ہیں جہاں سے پہلے تیل اور اشیائے خوردونوش کا کاروبار ہوتا تھا اب ایک ہی پوائنٹ کھولنے کے باعث تنازعہ علاقے کی برادر اقوام کے بیچ دوریوں اور باہمی نفرت کا سبب بن رہا ہے جس کے لیے علاقے کے قبائلی معتبرین سیاسی نمائندوں کو مشترکہ طور پر اپنی زمہ داریاں ادا کرنی ہونگی انہوں نے کہاکہ ایک دوسرے کیخلاف سوشل میڈیا پر وایس میسجز اور نفرت انگیز پیغامات کی ہرسطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے میری گزارش ہوگی ایم پی اے چاغی میرعارف جان محمدحسنی ایم پی اے واشک سردار زابدریکی اور سابق ایم پی اے چاغی میر امان اللہ نوتیزئی سے کہ وہ اس سنجیدہ مسئلے پر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنا کر فوج اور ایف سی حکام سے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے بات کریں تاکہ علاقے میں اس روزگار سے وابستہ افراد کا مزید معاشی استحصال نہ ہوچونکہ میں خود کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث کراچی میں زیر علاج ہوں انشااللہ میں بذریعہ ٹیلی فون آئی جی ایف سی اور فوجی حکام سے ایرانی بارڈر سے منسلک مزید انٹری پوائنٹس کھولنے پر بات کروں گااور انشااللہ اپنی صحت یابی پر ازخود آئی جی ایف سی اور پاک فوج کے اعلی حکام سے ان بارڈرز پر رخشان ڈویژن کے عوام کے مسائل اور مشکلات پر تفصیلی بات چیت کروں گااضلاع کے برادر قبائل سے بھی اس سنجیدہ مسئلے پر رواداری باہمی احترام اور بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہیں تاکہ اس مسئلے کوجلدی حل کیاجاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں