قلات، پیٹرول بحران تاحال جاری،سینکڑوں گاڑیاں، رکشے کھڑے رہ گئے
قلات:قلات میں عید سے قبل کا پیٹرول بحران تاحال جاری، سینکڑوں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اور رکشے کھڑی رہ گئیں۔ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا، جبکہ رکشے اور سکول وین میں جانے والے اساتذہ کرام اور بچے بھی رل گئیں۔ اعلی حکام پٹرول کی قلت کا فوری نوٹس لیں۔ تفصیلات کے مطابق عید سے قبل سے لیکر تاحال قلات میں پیٹرول کابحران جاری ہے۔ اس سے قبل ایرانی پٹرول کی سپلائی سے علاقے میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں تھی۔ ایران بارڈرز پر پابندی کے باعث ایرانی پیٹرول کی سپلائی بھی بند ہوگئی ہے جبکہ دیگر پٹرول پمپس سے شہر میں گاڑیوں موٹرسائیکلز اور رکشوں ایمبولینس سمیت دیگر سرکاری گاڑی و موٹرسائیکلز کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے پٹرول فراہمی ممکن نہیں۔ جس سے مخصوص مقدارمیں کچھ پیٹرول پمپس پر پیٹرول آتی ہے تو لوگوں کا رش لگ جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں قطار مکی صورت میں پیٹرول حاصل کی جاتی ہے جس سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کے عوام زیادہ تر آبادی سواری کے لیے موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں خصوصا پہاڑی اور دیہاتوں کے افراد کو اپنی موٹرسائیکلوں اورگاڑیوں کے لیے پیٹرول حاصل کرنے مشکلات درپیش ہے عید سے قبل ایرانی پیٹرول کی سپلائی بندہونے سے پاکستانی پیٹرول کی رسد اورطلب میں فرق کے باعث پیٹرول ناپید ہے عوامی حلقوں نے وزارت پیٹرولیم، وزیراعلی بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر قلات سمیت دیگر اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ قلات میں پیٹرول کے بحران کا نوٹس لیکر پیٹرول پمپس کو زیادہ مقدارمیں پیٹرول فراہم کرنے اور منی پیٹرول پمپس کو بھی پیٹرول فراہم کرنے کی اجازت دے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جاسکے اور عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوسکیں۔


