سول ہسپتال بسیمہ کے ڈاکٹر ز اور اسٹاف کیساتھ بدمعاشی اور گالی گلوچ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ بلوچ ڈاکٹرز فورم
ہسپتال انتظامیہ دوران ِ ڈیوٹی اسٹاف کے سیکیورٹی اور کرونا SOPs پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
کوئٹہ (پ، ر) بلوچ ڈاکٹرز فورم کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک پریس ریلیز میں سول ہسپتال بسیمہ کے ڈاکٹر نوروز خان اور اسٹاف کیساتھ اتوار 25 جولائی کو ڈی ایس ایم ژوب مشتاق احمد اور اسکے ہمراہ سینکڑوں رشتہ داروں کی بدمعاشی و بدتمیزی اور دھمکی آمیز واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کی پُرزور اپیل کی ہے ۔ یاد رہے کہ سول ہسپتال بسیمہ کے ڈاکٹرز اور اسٹاف نے واشک جیسے دورافتادہ ضلح میں کرونا کے عالمی وباء کے دوران جان ہتھیلی پر رکھ کر انتہائی محنت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔متعلقہ ہسپتال میں سیکیورٹی کے عدم موجودگی کی وجہ سے مریضوں اور انکے غیر متعلقہ رشتہ داروں کی اسٹاف کیساتھ لڑائی معمول بن چکی ہے۔ عین اسی طرح 25جولائی بروز اتوار ایک 2 سالہ بچہ جسے ایک انگلی میں معمولی زخم آئے تھے، بچہ کو ڈی ایس ایم اپنے سینکڑوں رشتہ داروں و لشکر کیساتھ لےکر ہسپتال پہنچا تو پیرامیڈیکل اسٹاف نے بروقت طبی امداد دے کر فارغ کیا، چونکہ ڈیوٹی ڈاکٹر نوروزخان کو عین اسی وقت Covid – 19 سے شدید متاثر اپنے کزن کو ابتدائی طبی امداد دینے گھر بلایا گیا تھا، پھر بھی اسے کال کرکے بروقت بلایا گیا۔ جونہی ڈاکٹر ہسپتال پہنچا تو مریض کو پہلے ہی فرسٹ ایڈ مل چُکا تھا، اس کے باوجود ڈی ایس ایم اور اس کے رشتہ دار طیش میں آکر شدید بدمعاشی و غنڈہ گردی اور گالی گلوچ کرتے رہے اسکے ہمراہ سینکڑوں رشتہ دار جوکہ محکمہ صحت میں میڈیکل ٹیکنیشن اور ڈسپنسر ہونے کے باوجود ڈاکٹر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ ہسپتال انتظامیہ اور سول انتظامیہ واقعہ میں ملوث عناصر کو 72 گھنٹہ گزرنے کے باوجود گرفتار نہیں کر واسکے ۔ بی ڈی ایف واضح کرتی ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹرز کی سیکیورٹی پر قطحاً مصلت کا شکار نہیں ہوگا اور اپنے ڈاکٹرز اور اسٹاف کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، مزید برآن جناب سیکرٹیری صحت اور ڈی سی واشک سے پُرزور اپیل کیجاتی ہے کہ دوران ِ ڈاکٹر کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور واقعحہ کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث عناصر کے خلاف فوری کاروائی کیا جائے۔


