پنجگور،میرے بیٹے عامر داد جان کو دو مہینے پہلے نامعلوم افراد نے لاپتہ کیا تھا، کسی سے دشمنی نہیں، داد جان بلوچ
پنجگور:گزشتہ ماہ 23 جون 2021 سے اغوا ہونے والے غریب آباد تسپ کے رہائشی عامر ولد داد جان کے والد داد جان بلوچ اور انکے قریبی رشتہ دار اکرم بلوچ نصیر بلوچ شوکت بلوچ ودیگر نے اپنے رہائش گاہ کے قریب علاقے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بیٹے عامر داد جان کو گزشتہ دو ماہ کے کم و بیش سے میرے گھر کے قریب نامعلوم گاڑی سواروں نے زور زبردستی گھسٹتے تشدد کرتے ہوئے اغوا کرکے لے گئے نہ ہمارا کوئی قصور نہ کسی سے کوئی دشمنی ہے ہم مزدور لوگ ہیں صبح شام اپنی غریبی کرکے دن گزار رہے ہیں ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی کو تنکے کا نقصان نہیں دیا ہے لیکن بڑی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ساتھ اتنے ظلم زیادتی کیوں کیا جارہا ہے انہوں نے کہا ہے جب میرا بیٹا اغوا ہوا کچھ ہی منٹوں کے بعد ہم نے اپنے قریبی پنچی پولیس تھانے میں درخواست دائر کی لیکن دو ماہ گزر جانے کے باوجود بھی پولیس کی جانب سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتا انہوں نے کہا ہے کہ اس حوالے سے ہم نے سرکاری قانونی عوامی علاقائی تمام ذرائع استعمال کئے ہمیں صرف طفل تسلیوں کے سوا انصاف نہیں مل رہا ہیڈپٹی کمشنر پنجگور سے ملے اپنے عرض پیش کی لیکن وہاں بھی کچھ نہیں ملا ہمیں بتایا جائے کیا ہم پنجگور کے آئین و قانون میں نہیں آتے ہیں کیا ہمارے شہری انسانی حقوق نہیں ہیں اگر ہیں تو ہم انصاف مانگنے کہاں جائیں تمام تر کوتاہیوں کو برداشت کرتے ہوئے ہم نے ذاتی طور پر تفتیش کرکے اغوا کاروں کی شناخت کرکے پولیس انتظامیہ کو اطلاع دی ہیں اس کے باوجود بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ہم یہی سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ پنجگور کے امن و امان خراب کرنے میں پولیس اور انتظامیہ شامل ہے وہ خود نہیں چاہتے ہیں کہ پنجگور میں امن ہو انہوں نے کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں اور علاقائی معتبرین کی عدم تعاون کو دیکھتے ہوئے مایوس ہوچکے ہیں ہم پرامن قبائل ہیں امن و امان کی زندگی گزارنے والے ہیں لیکن اب ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ ذاتی قانون چلائیں اس کے جو نتائج نکلیں گے اس کے زمہ دار پنجگور پولیس اور ضلعی انتظامیہ ہوگی چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ میرے بیٹے کو بازیاب نہیں کرایا گیا تو ہم ڈپٹی کمشنر پنجگور کے دفتر کا گھیرا کرکے گھر کے تمام افراد کو لے کر احتجاج اور دھرنا دیں گے۔


