سی آئی اے چیف کا اسرائیل کا دورہ، ایران کے معاملے پر بات چیت ہوگی

تل ابیب:اسرائیلی حکام نے بتایاہے کہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچ گئے۔ وہ منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل پہنچے جہاں وہ ایران کے معاملے پراسرائیلی حکام سے مذاکرات کریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سی آئی اے چیف ایک ایسے وقت میں تل ابیب پہنچے ہیں جب حال ہی میں اسرائیل کے مرسر اسٹریٹ آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کے بعد تہران اور تل ابیب جب کہ لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی سامنے آئی۔لبنان کے شہر شویا کے باشندے حزب اللہ کے ایک ٹرک کو سرحد سے واپس جاتے ہوئے روک رہے ہیں جہاں گزشتہ ہفتے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے تھے،برنز موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیہ سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور دیگر اعلی دفاعی اور انٹیلی جنس حکام سے بھی ملیں گے۔اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کی علاقائی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے گی۔ اسرائیل کو نئی ایرانی حکومت کے بارے میں امریکی پالیسی اور 2015 کے ایٹمی معاہدے میں ممکنہ واپسی کے بارے میں مزید بریفنگ کی امید ہے۔توقع ہے کہ برنز فلسطینی انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فرج سے بھی ملاقات کے لیے رام اللہ جائیں گے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات متوقع ہے۔موساد کے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے قریبی تعلقات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران سی آئی اے اور موساد نے ایران کے خلاف کئی کارروائیوں پر مشترکہ طور پر کام کیا۔سی آئی اے کا فلسطینی انٹیلی جنس سروس کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے ساتھ بہت قریبی تعاون رہا ہے جسے ایجنسی نے ٹرمپ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان دوسرے تمام رابطوں کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رکھا۔امریکی محکمہ خارجہ میں اپنے طویل کیریئر کے دوران سی آئی اے چیف نے اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں