ایرانی صدر کا بلوچستان سے متصل پاک ایران سرحد پر 6تجارتی گزرگاہ کھولنے کا اعلان

دالبندین:چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ایرانی صدر نے بلوچستان سے متصل پاک ایران سرحد پر چھ تجارتی گزرگاہ کھولنے کا اعلان کیا ہے جس سے صوبے میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے،ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاغی اور واشک ضلعے کو گوادر سے منسلک کرکے ان علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔وہ منگل کو چاغی کی دورے کے موقع پر اپنے آبائی علاقے نوکنڈی میں عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ واشک سے گوادر تک 198 کلومیٹر کی شاہراہ تعمیر کی جائے گی جبکہ 103 کلومیٹر طویل ماشکیل نوکنڈی شاہراہ پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں منصوبوں کی تکمیل سے علاقے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے پی ایس ڈی پی میں چاغی کے لیے مزید پانچ ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چاغی میں اس وقت بیس ارب روپے کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جن میں نوکنڈی میں ایک عالمی معیار کی منرل ریسرچ یونیورسٹی کا منصوبہ بھی شامل ہے. انہوں ماشکیل میں پچیس بستروں کے ہسپتال اور بجلی کی فراہمی کے لیے پانچ ارب روپے مختص کروانے کا اعلان کیا. انہوں نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے لیے چھ تجارتی گزرگاہ کھولنے کے اعلان پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے روابط قائم ہیں. ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلی دفعہ ایک پسماندہ علاقے سے اٹھ کر چیئرمین سینیٹ بنے ہیں اس لیے وزیر اعظم اور وزرا کو اپنے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے انھیں اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر وہ عمران خان کے مشکور ہیں. ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ ایک آئینی عہدہ ہے اس لیے انہوں نے کبھی بھی ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت نہیں کی. قبل ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی خصوصی طیارے پر جب دالبندین ائرپورٹ پہنچے تو قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں اور سرکاری افسران نے ان کا استقبال کیا اس موقع پر انھیں پولیس فورس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کیا. بعد ازاں انہوں نے نوکنڈی ماشکیل شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا اور گھٹ واٹر سپلائی اسکیم کا افتتاح کردیا. اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چاغی آغا شیرزمان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چاغی انور بادینی اور اسسٹنٹ کمشنر دالبندین جاوید ڈومکی بھی چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ تھے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں