پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنا ہے تو فکر بزنجو پر عمل پیرا ہونا ہوگا،مالک بلوچ
نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل وفاق ہے۔اور یہ اکائیاں قوموں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنی تاریخی سرزمین ثقافت اور زبان رکھتے ہیں۔لیکن 7 دہائیوں سے وفاق نے چھوٹے قومی اکائیوں کی حق حاکمیت اور تشخص کو روندنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔اور اس منفی روش نے ملک کو معاشی سماجی اور سیاسی بحرانوں کے دلدل میں پھنستا دیا ہے۔تاریخ کی مدبر و مفکر میر غوث بخش بزنجو نے ون یونٹ سے لیکر سقوط ڈھاکہ اور افغان جنگ کے حوالے سے حکمرانوں کو خبردار کیا تھا کہ پالیسیوں و رویوں کو سیاسی بصیرت اور سنجیدگی سے بروئے کار لایا جائے۔تو ملک اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔لیکن آمریت اور آمریت نواز حکمرانوں نے منفی پالیسیوں کو جاری رکھا۔جس کا خمیازہ آج ملک ایک طرف سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا شکار تو دوسری طرف عالمی مالیاتی اداروں نے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔آج ہی کے دن بہ یک وقت مفکر و دانشور اور سیاستدان میر غوث بخش بزنجو جدا ہوئے۔اگر پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام فراہم کرنا ہے تو فکر بزنجو پر عمل پیرا ہونا ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے اور اس کے خلاف سازشیں کرنا بند ہونا چاہیے۔سیاسی عمل کے خلاف پروپیگنڈا کرنے یا سازشیں کرنے سے کیا ملک و عوام خوشحال ہوگئے تو کروڑوں عوام کا جواب ہے کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں تیزی سے بدلتے صورتحال کا جائزہ اور ادارک رکھنے کیلیے میر غوث بخش بزنجو جیسی سیاسی بصیرت وسوچ اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔لیکن افسوس کہ حکمرانوں کو احساس ہی نہیں کہ موجودہ صورت حال کی نوعیت کیا ہے۔حالانکہ اس نئے صورتحال پر حکومت کو گہری نظر رکھنی چاہیے تھی۔لیکن حکومت نے تو سیاسی انتقام اور طوفان بدتمیزی کو محور بنایا ہوا ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ نیشنل پارٹی فکر بزنجو کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور ملک میں سیاسی جمہوری تسلسل کی جدوجہد میں ہر ممکن کرادر ادا کریگی۔نیشنل پارٹی بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی برسی کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے مختلف اضلاع میں تقاریب کا انعقاد کررہی ہے۔کوئٹہ پریس کلب میں 4 بجے تقریب منعقد ہوگی


