بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے، ایوان صنعت و تجارت بلوچستان
کوئٹہ:ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان نے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں تجارت کی حالت زار پررحم کیا جائے بلوچستان سے 20سالوں میں 10ٹرینیں چلتی تھی آج 1رہ گئی ہے موٹروے کی حالت یہ ہے کہ ایک فٹ موٹروے بلوچستان میں نہیں ہے جبکہ پی آئی اے کا رویہ بھی درست نہیں روڈ حادثات میں 7ہزار سے زائد لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں عوام اور تاجروں کو سفری سہولیات سے نہ صرف مسائل حل ہونگے بلکہ بلوچستان دیگر صوبوں کے برابر ترقی کریگا ان خیالات کا اظہار ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان کے ایگزیکٹو ممبران حاجی اختر محمد کاکڑنے حاجی مرزا خان خلجی،سردار رحیم خلجی،حاجی آغا گل، کمال خان اچکزئی، چوہدری امجد،محمد نعیم کے ہمراہ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسٹیڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کااجلاس ہوا جس میں چیمبرآف کامرس کی جانب سے تاجر برادری شریک ہوئی انہوں نے کہا کہ پہلے لوگ پاکستان ریلوے میں سفر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے اور لوگ اپنی اہلخانہ کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کیلئے ریلوے میں سفر کو ترجیح دیتے تھے لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں محکمہ ریلوے کا ریکارڈ یہ ہے کہ 2020تک پاکستان ریلوے کے 10ٹرینیں چلتی تھی کوئٹہ سے چلنے والے ٹرینوں کی تعداد 1ہوکر رہ گئی ہے جن میں اباسین ایکسپریس پشاور کیلئے 2002،سبی کھوسٹ سٹیشن2006، میں مہران پسنجر کراچی کیلئے 2006، زاہدان پسنجر تفتان کیلئے 2007، بلوچستان ایکسپریس کراچی کیلئے2008،لاہور کیلئے چلتن ایکسپریس 2010ء میں بند ہوئی جبکہ نواب اکبر بگٹی ایکسپریس جو لاہور کیلئے تھی کرونا کی وجہ سے بند کی گئی اور یہ تاحال بند ہے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری ریلوے کی جانب سے بولان میل 15دن میں بحال کرنے کی یقین دہانی تو کرائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان میں محکمہ ریلوے کرپشن سے دو چار ہیں دنیا ترقی کررہی ہے بلوچستان میں ریلوے لائن11ہزار ختم ہوکر 7 ہزار تک محدود ہو گئی سالانہ 7 ہزار لوگ حادثات میں جان کی بازی ہار رہے ہیں محکمہ ریلوے کی جانب سے اربوں روپے ہسپتالوں پر خرچ کئے جارہے ہیں لیکن کوئٹہ میں ریلوے ہسپتال کی حالت زار ناگفتہ بہ ہے دنیا نے ریلوے کے ذریعے ترقی کی ہمارا حال یہ ہے کہ آئے روز ٹرین سروس بند ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں موٹروے نہ ہونے کے برابر ہے اسی طرح پی آئی اے کا آپریشن بھی روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان سے ریلوے بحالی کے ساتھ پی آئی اے آپریشن شروع کرے بلکہ کوئٹہ سے سکھر تک موٹروے بنایا جائے اور کوئٹہ تا لاہور،کوئٹہ تا کراچی، کوئٹہ تا زاہدان کوئٹہ تا کابل کوئٹہ تا گوادر اور اسلام آباد کیلئے براہ راست روزانہ کی بنیاد پر پلائٹ آپریشن شروع کی جائے تاکہ تاجروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی آسان سفر کی سہولت میسر ہوکوئٹہ سے اسلام آباد روٹ ایک گھنٹہ 15منٹ کیلئے 20سے25ہزار کرایہ وصول کی جارہی ہے جبکہ کراچی سے اسلام آباد جو دو گھنٹے کا سفر ہے کا کرایہ 8سے 10ہزار وصول کی جارہی ہے لہذا فوری طور پر کرایوں پر نظر ثانی کی جائے۔


