کابل ایئرپورٹ پر حملہ ہوسکتا ہے،برطانوی وزیر
برطانیہ:برطانوی وزیربرائے آرمڈ فورسزجیمزہیپی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کابل ایئر پورٹ پر حملہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کابل ایئر پورٹ پر ہینڈلنگ سینٹر میں موجود افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وہاں سے انخلا کا عمل جلد ختم ہو جائے گا۔وزیربرائے آرمڈ فورسز نے کہا کہ افغانستان میں غیرمحفوظ افراد کی حفاظت یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان سے برطانیہ کی آخری پرواز کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔
خیبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ اب تک 12 ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکال چکا ہے۔ چند روز قبل امریکا نے بھی خبردار کیا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے کا خدشہ ہے۔تمام ممالک نے افغانستان میں موجود اپنے باشندوں کو کابل ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ صرف ان امریکیوں کو سفر کرنا چاہیے جنہیں انفرادی طور پر وہاں جانے کو کہا گیا ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ کابل کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔ قطر کے حکام کا کہنا تھا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد کو دوحہ لایا گیا۔ ساڑھے 8 ہزار سے زائد مسافروں نے متحدہ عرب امارات کے راستے سفر کیا۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق گزشتہ ہفتے ڈھائی ہزار امریکیوں سمیت 17 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا کیا گیا۔


