دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 152 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، ترجمان فوج
ترجمان فوج میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ پاکستان کو نقصان پہچانے کے لییکی،کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرتی رہی، اب بھارت کا اثر خطے اور افغانستان سے ختم ہوگا۔
جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخارکا کہنا تھا کہ بھارت نے افغان حکومت، فوج اور عوام کے ذہنوں کو زہر آلودکیا، بھارت کا افغانستان میں کردارمنفی رہا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچانیکیلیے این ڈی ایس نے را کی مدد کی، داسو، لاہور اورکوئٹہ کے واقعات این ڈی ایس اور را کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہوئے،۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سرحد کی پاکستانی سائیڈ مکمل محفوظ ہے،15 اگست کے بعد پاک افغان بارڈر متعدد بار بند اور کھولا گیا،کئی بار افغان نیشنل آرمی کے اہلکاروں نے پاکستان میں آکر پناہ لی،ہم نے افغان نیشنل آرمی کوفوجی اقدار کے ساتھ رکھا اوران کی واپسی ممکن بنائی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان بارڈر پر 78 کراسنگ پوائنٹس ہیں،ان بارڈر کراسنگ میں سے17کو سکیورٹی کے پیش نظر نوٹیفائی کیا گیا تھا،سرحد پر قانونی کاغذات کے ساتھ نقل و حرکت کی اجازت ہے، ہم نے افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا میں مدد کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بعد اس تنازع میں سب سے زیادہ پریشانی پاکستان کو ہوئی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا 152 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، ہم نے 80 ہزارکے قریب جانوں کی قربانیاں دیں، افغانستان کے حوالے سے بیرونی اور اندرونی سکیورٹی مشکلات کا سامنا تھا۔
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ 2012 تک پاک افغان بارڈر پر کوئی کوآرڈی نیشن نظام نہیں تھا،ہم نے افغان حکومت سے بارڈر کنٹرول میکنزم پر بات کی اور انٹیلی جینس شیئرنگ مکینزم پر بھی بات کی،پاکستان نے بارہا افغانستان میں اسپائلرز کیکردارکے بارے میں دنیا کو بتایا،پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد سے زیادہ علاقے میں فینسنگ ہوچکی ہے،اس کام میں بہت سے فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔


