یورپ میں ایک مشترکہ دفاعی اتحاد بنانے کی تجویز
برسلز یورپی سفارتکاروں نے بتایا ہے کہ یورپ میں ایک مشترکہ دفاعی اتحاد بنانے کی تجویززیرغور ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق سلوانیا میں ہونے والی یورپی وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شریک سفارت کاروں نے بتایا کہ یورپ میں ایک مشترکہ دفاعی اتحاد بنانے کی تجویززیر غور ہے تاہم فورس کی تشکیل کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کیونکہ کئی امور پر اختلافات ہیں۔ سفارت کاروں کے درمیان ابھی اس بات پر اتفاق نہیں ہو پارہا کہ تمام 27ملکوں کی رضامندی کے بغیر فورس کو کسی جگہ فورا تعینات کرنے کا فیصلہ کس طرح کیا جائے گا۔اس کے لیے تمام ملکوں کی پارلیمان کی منظوری لینی ہوگی اوران میں کچھ ایسے ممالک بھی ہوں گے جو پہلے اقوام متحدہ کی رضامندی حاصل کرنا پسند کریں گے۔ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے امید ظاہر کی کہ اکتوبر نومبر تک اس حوالے سے ایک منصوبہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بعض اوقات ایسے واقعات ہوتے ہیں جو تاریخ کو نیا موڑ دیتی ہیں، جو کچھ نیا شروع کرتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔بورل نے یورپی یونین سے درخواست کی کہ پانچ ہزار فورسز پر مشتمل ایک ایسا دستہ تیار کیا جائے جسے فورا کہیں بھی تعینات کیا جاسکے، تاکہ امریکا پر انحصار کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن مسلسل تیسرے ایسے امریکی صدر ہیں جنہوں نے یورپ کو متنبہ کیا کہ ان کا ملک یورپ کے قریبی مقامات میں جاری غیرملکی دخل اندازی سے اپنا ہاتھ کھینچ رہا ہے۔بورل کا کہنا تھاکہ یہ یورپ کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ انہیں اب بیدار ہوجانے کی ضرورت ہے اور اپنی ذمہ داریاں خود اٹھانے کی ضرورت ہے۔


