سوراب،غیر ملکی تیل اسمگلرز سے بھتہ وصولی کیلئے مافیا سرگرم
سوراب: غیرملکی تیل اسمگلرز سے بھتہ وصولی کے لئے مافیاز سرگرم، منظم انداز میں بھتہ خوری منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، فرضی یونینز کے نام پر اسمگلنگ سے وابستہ طبقہ سے ماہانہ لاکھوں روپے لوٹا جارہا ہے، شراکت داری کے لئے ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے کے لئے سوشل میڈیا کو زریعہ بنایا جاتا ہے، سوراب میں سرگرم عناصر خود کو مختلف محکموں کے مقرر کردہ کارندے ظاہر کرتے ہیں اس لئے انہیں بھتہ ادا کرنے پر مجبور ہیں، متاثرہ ٹینکرز مالکان کاانکشاف،تفصیلات کے مطابق پنجگور سے غیرملکی ڈیزل اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ سے وابستہ طبقہ سے بھتہ وصولی منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، بھتہ وصولی پر چیف سیکریٹری کی واضح پابندی کے باوجود مخصوص پرائیویٹ افراد خود کو مختلف محکموں کے کارندے ظاہر کرکے آئل ٹینکرز اور کوچ مالکان سے لاکھوں روپے ناجائز مقرر بھتے وصول کرنے میں ملوث ہیں، حصہ داری کے لئے مخالف بیان دیکر ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرکے مجبور کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر متاثرہ ٹینکرز مالکان کا کہنا تھا کہ سوراب میں اسمگلرز سے پرائیویٹ افراد کی ناجائز بھتہ وصولی کا سلسلہ عرصوں سے جاری ہے جنہیں اکثر اوقات اسمگلنگ کے روک تھام پر مامور اداروں کی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے، بھتہ وصولی میں ملوث یہ افراد مافیاز کی صورت اختیار کرچکے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں، بھتہ وصولی کے دھندے کے لئے فرضی یونینز کا نام استعمال کیا جاتا ہے یوں ڈیزل اور دیگر غیرملکی اشیاء اسمگلنگ کرنے والی گاڑیوں سیاہانہ لاکھوں روپے ناجائز رقم بھتے کے نام پر وصول کی جاتی ہے،واضح رہے کہ بارہا نشاندہی کے باوجود ان بااثر مافیاز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی اور لوٹ ماری کا گھناؤنا دھندہ بدستور جاری ہے۔


