بلوچستان کی شرح خواندگی دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی کم ہے، ایس ایس ایف
عالمی شرح خواندگی کے دن کی مناسبت سے سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1966 میں 8 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواندگی منانے کا اعلان کیا تاکہ بین الاقوامی برادری کو افراد ، اقوام اور معاشروں کے لیے خواندگی کی اہمیت، افادیت اور مزید خواندہ معاشروں کے لیے کاوشوں کی یاددہانی کرائیں. اور تعلیم کو بنیادی انسانی حقوق کے طور پر پیش کرنے کے علاوہ ہر سال شرح خواندگی کی تناسب کا جائزہ لیا جائے کہ شرح خواندگی میں کتنی بڑھوتری اور گراوٹ آئی ہے. کیونکہ تعلیم ہی ہر سماجی، سیاسی اور معاشی بیماریوں کا بہترین علاج ہے،
ایس ایس ایف کے ترجمان فیاض بلوچ نے کہا کہ اس سے اکثریتی ممالک پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے جن کے اب شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ ہے مگر مملکت پاکستان نے 2010 میں اٹھارویں ترمیم کرکے آرٹیکل 25-A میں 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں کےلیے تعلیم مفت اور لازمی قرار دینے کے باوجود بھی دنیا میں ان ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جن کے بچے اسکولوں سے باہر ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مجموعی 32 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جب کہ بلوچستان پاکستان کا رقبہ کے لہذ سے 47 فیصد ہونے کے علاوہ زرخیز اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود اس کے 47 فیصد اور بلوچستان کا ایک ضلع شہید سکندر آباد کا 76 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں. اور اسی طرح بلوچستان کے کئی گاؤں، قصبوں اور تحصیلوں کا یہی صورت حال ہے لیکن وہاں سروے نہ ہونے کی وجہ سے مین اسٹریم پر نہیں آتے.
انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرح خواندگی 59 فیصد ہے، پنجاب 62 فیصد سندھ 53 فیصد، خیبر پختون خواہ 55 فیصد جبکہ بلوچستان 41 فیصد ہے اور اس میں وہ شخص افراد بھی شامل ہیں جو صرف دستخط کرسکتے ہیں. بلوچستان کی شرح خواندگی دیگر صوبوں سے انتہائی کم ہے. جہاں مردوں کی تعلیم 38 فیصد جبکہ خواتین کی شرح صرف 13 فیصد ہے جو دنیا کی سب سے کم شرح وخواندگی ہے.
ترجمان نے کہا کہ اس کے برعکس جو اسکول اور کالجز موجود ہیں لیکن انکی حالت زار بھی قابلِ رحم ہیں. جن کی اکثریت میں بنیادی ضروریات جیسے کمرہ، باتھ روم، چار دیواری اور پینے کی صاف پانی تک میسر نہیں. صرف یہ نہیں بلکہ کتابیں بھی کبھی وقت پر پبلش نہیں ہوتے جس کی وجہ سے طلبا و طالبات ذہنی کوفت کے شکار ہوتے ہیں. رواں سال بھی 8 مہینے گزرنے باوجود بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کتابیں نہیں چھاپ رہا اور دو مہینے بعد سالانہ امتحانات ہونے کو ہیں.
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 36 فیصد اسکول پانی اور 56 فیصد اسکول بجلی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 15 فیصد درس گاہیں گھوسٹ اسکول بن گئے ہیں. جہاں 15 ہزار اساتذہ کی سرے سے رکارڈ ہی نہیں جبکہ 9 سو گھوسٹ اسکول میں 3 لاکھ طلبہ کی جعلی رجسٹریشن کی گئ ہے اور 7 ہزار اسکول جن میں پرائمری، مڈل اور ہائی شامل ہیں، جو صرف ایک استاد اور ایک کمرہ پر مشتمل ہیں. ان سب کے باوجود اساتذہ کا غیر حاضر ہونا ایک الگ المیہ ہے.
ایس ایس ایف کے ترجمان نے کہا کہ الف اعلان کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صرف 11627 پرائمری، 1271 مڈل اور 947 ہائی اسکول رجسٹر ہیں. اور یونیسیف کے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 70 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جس کی 78 فیصد لڑکیاں جبکہ 67 فیصد لڑکے ہیں. اور اسکی بنیادی وجہ اسکول اور گھر کے درمیان طویل فاصلہ ہے. بلوچستان میں اوسطاً 30 کلومیٹر کی فاصلےپر ایک پرائمری اسکول، 260 کلومیٹر پر مڈل اسکول اور 360 کلومیٹر پر ہائی اسکول واقع ہے. ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 84 فیصد طلبہ سرکاری اور 16 فیصد نجی اسکولوں سےتعلیم حاصل کررہے ہیں. سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں کل صرف 97 کالجز ہیں جس میں 62 انٹر اور 35 ڈگری کالجز ہیں. اس کے مقابلے میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں صرف 98 اور لاہور میں 186 کالجز ہیں.بلوچستان میں صرف 17 پبلک لائبریریز ہیں جو بلاشبہ ملک کی 47 فیصد پر مشتمل صوبے کےلیے نہ ہونے کے برابر ہے.
یہ سب مذکورہ بالا اعداد و شمار اور تعلیمی صورتحال اس چیز کی غمازی ہے کہ بلوچستان کو تعلیم کے حوالے سے مکمل نظر انداز کیا گیا ہے.
ہالانکہ اقوام متحدہ کی چارٹر کے مطابق بجٹ کی 4.5 فیصد تعلیمی اخراجات کےلیے مختص کرنا چاہیے لیکن یہاں 2.2 فیصد سے بھی کم ہے.
ان تمام صورتحال کے باوجود اب وفاق کی جانب سے یکساں نظام تعلیم کا اعلان کیا گیا ہے. جہاں صوبے ایک دوسرے کے برابر نہیں وہاں یکساں نصاب ایک مذاق کے علاوہ کچھ بھی نہیں. حتی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے زبان، ثقافت اور ہیروز کے مطابق اپنا نصاب ترتیب دیں. اس کے علاوہ پاکستان ایک کثیر الاقومی، کثیر السانی اور کثیر المذاہب ملک ہے. آئین پاکستان ان تمام شناختوں کا تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن یکساں نظام تعلیم ان مختلف قوموں، ثقافتوں اور زبانوں کی پہچان کو مٹانے کی مترادف ہے.
بلوچستان حکومت کو اپنے تعلیمی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے. تعلیمی اداروں کی نہ صرف مانیٹرنگ کرنا چاہیے بلکہ آئندہ کے پی ایس ڈی پی میں تعلیم کو اولین ترجیح دینا چاہیے. تاکہ بلوچستان کی موجودہ تعلیمی پسماندگی کی بیخ کنی کی جائے.


