8 اگست کوتاریخ کے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا،نور محمد دمڑ
کوئٹہ؛ بی اے پی کے مرکزی رہنماء صوبائی وزیر پی ایچ ای/ واسا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ 8 اگست2017 ء میں بلوچستان کے ہرگھر میں ماتم ہورہا تھا پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اسلام آباد کے پر تعش ماحول میں ڈانس کر رہے تھے، مستونگ میں محنت مزدوری کرنے والے پشتونوں کو بقاعدہ شناخت کرنے کے بعد مسافر کوچوں / بسوں سے اتار کر انہیں لائن میں کھڑا کرکے انہیں قتل کردیا، پولیس سنٹر کوئٹہ میں درجنوں بے گناہ نوجوان کو قتل کیا گیا یہ تین بڑے واقعے ان نام نہاد پشتون ولی کا نعرہ لگانے والوں کے دور حکومت میں ہوا لیکن پشتون ولی کا نعرہ لگانے والوں نے نہ تو وزارتوں سے استعفیٰ دیا اور نہ ہی لاشوں کو سڑکوں پر رکھ ایک منٹ کیلئے بھی تو نہ بازار بند ہوا نہ ہی سڑکیں بلاک ہوئے اور نہ ہی یہ پشتون ولی دعوہ کرنے والوں نے کوئی احتجاج کیا بلکہ یہ اقتدار کے نشے میں دھت تھے اور انہوں بے گناہ معصوم پشتونوں کے قتل سے کوئی سروکار نہیں تھا دہشت گردی آج سے نہیں بلکہ نائن الاون سے شروع ہے ضلع زیارت مانگی ڈیم میں شہید ہونے والے لیویز ایلکارمیں دست و بازوں تھے انکے شہادت سے جتنا دکھ، درد اور تکلیف مجھے پہنچا ہے وناقابل بیان ہے لیویز کے شہداء نے جرت بہادری کے ساتھ ملک دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کیا ہے انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ شہداء لیویزمانگی ڈیم کے حوالے سے میں نے مذمتی قرار داد پیش کیا اور ملک خصوصاََ صوبے میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے جب میں اسمبلی اپنی تقریر شروع کی اور قوم کے سامنے حقائق بیان کیا تو ایک سیاسی یتم اور پشتون ولی کا دعوہ کرنے والے جماعت کے ممبر سیخ پاو ہوا انہوں نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کوئٹہ سول ہسپتال میں 8 اگست 2017 ء کو سو قریب وکلا جوکہ قوم کی دل و دماغ تھی انہیں دہشت گردی کا نشانہ بناکر ایک لحمہ میں سو کے قریب وکلاء و دیگر کو شہید کردیا اور سانحہ 8 اگست کے واقعہ میں بلوچستان کا ایساء ضلع نہیں بچا ہوگا جہاں جنازہ نہیں گیا ہوگا اور پورا صوبہ سوگ میں ڈوباہوا تھا اور ہر گھر میں ماتم تھا بلوچستان میں پشتونوں کی لاشیں گر رہی تھی اور پشتون ولی کا دعوہ کرنے والی جماعت کے سربراہ محمود خان اسلام آباد کے پر تعش ماحول میں ڈانس کر رہے تھے انہوں نے کہاکہ دہشت گردی جہاں بھی ہورہی ہیں ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے لیویز، پولیس، ایف سی اور دیگر فورسز ملک اور صوبے میں قیام امن کیلئے اپنے جانوں کے نظرانے پیش کررہے ہیں لیکن نام نہاد پشتون قوم پرستی کا دعوہ کرنے والی جماعت فورسز کو بدنام کرنے کیلئے انکے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں لیکن قوم وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب ان کے دور حکومت میں پشتونوں کی قتل عام ہورہی تھی اور یہ پشتونی ولی کا دعوہ کرنے والے اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہوئے تھے انہوں نے کہاکہ پشتون قوم اب باشعور ہوچکی ہے سو سال بعد بھی انہیں سانحہ8 اگست، پولیس ٹرینگ سنٹر، سانحہ مستونگ نہیں بول سکتے ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں امن وامان کے قیام کیلئے اپنے جانوں کے نظرانے پیش کرنے والے لیویز،پولیس، ایف سی سمیت تمام فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہے پوری قوم اپنے فورسز اور اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے پشتون ولی کا دعوہ کرنے والوں کو قوم نے مستردکردیا ہے اب یہ بیروزگار ہوگئے انکا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے پشتون قوم انکی اصلیت جان چکی ہے اب مزید پشتون قوم کو بے وقفوف نہیں بنایا جاسکتا،ضلع زیارت کے علاقے مانگی ڈیم میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کو انکے انجام تک پہنچانے تک چھین سے نہیں بیٹھونگا۔


