تاج بی بی کے قتل کے خلاف تربت میں احتجاجی مظاہرہ

تربت:آسکانی بازار آبسر میں تاج بی بی کے قتل کیخلاف تربت میں آلپارٹیز اور سول سوسائٹیز کیچ کیجانب سے کنونیئرمشکورانورایڈووکیٹ کی قیادت میں احتجاجی ریلی اور شہید فدا چوک پرمظاہرہ کیاگیاخواتین بھی شریک تھیں مقررین نے کہاکہ فورسز کی فائرنگ سے بلوچ خاتون تاج بی بی کے قتل قابل مزمت اور فیملی کے نامزدگی کے مطابق ایف آئی آر درج اور گرفتاری عمل میں لائی جائے تفصیلات کے مطابق آل پارٹیز کیچ اور سول سوسائٹیز کی جانب سے گزشتہ روز آسکانی بازار آپسر میں تاج بی بی بلوچ کو گولی مارکر شہید کرنے کے واقعہ کیخلاف تربت شہر میں پریس کلب سے ریلی نکال کر تھانہ روڈ سے نیشنل بینک پھر شہر کی مرکزی چوک پرمظاہرہ کیا گیا، ریلی کی قیادت آل پارٹیز کیچ کے کنوینر مشکور انور ایڈووکیٹ کررہے تھے۔شہید فدا چوک پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تاج بی بی کی شہادت مبینہ ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہاتھوں ہوئی ہے جب تک اس کی فیملی کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، مقررین نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں کیا جاچکاہے حالانکہ فیملی نشاندہی کرچکی ہے کہ فائرنگ ایف سی اہلکاروں کی طرف سے ہوئی ہے۔انہیں گرفتارکرکے تفتیش کیاجائے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کا کردار بلوچستان میں سیکیورٹی کی فراہمی کے بجائے عوام کو دہشت زدہ کرنا رہ گیا ہے، آپسر ہی میں طالب علم حیات بلوچ کو گولی مار کر شہید کردیا گیا ایک سال کے بعد وہی روش پھر دہرا کر تاج بی بی کو شھید کیا گیا یہ رویہ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹیز کو کسی طور قبول نہیں ہے۔مقررین نے فوری طور پر تاج بی بی کی شھادت کی عدالتی تحقیقات اور فیملی کی نشاندہی پر ایف آئی آر درج کرکے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ریلی کی حمایت بی ایس او پجار اور جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی نے بھی کی تھی جسٹس فار شاہینہ شاہین کمیٹی کی کنونیئر معصومہ شاہین آل پارٹیز اور سول سوسائٹیز کے مظاہرے سے خطاب کیامظاہرے میں جسٹس فارشہید شاہینہ شاہین کمیٹی کی کنونیئر معصومہ رفیق نے کہا کہ جسٹس فارشہید شاہینہ شاہین کمیٹی نہتی خاتون تاج بی بی بلوچ کے قتل کی مزمت کرتی ہے اور فیملی سے اظہارافسوس اور یکجہتی کرتی ہے شاہینہ شاہین سے لیکرتاج بی بی تک بلوچ خواتین کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری ایک سوالیہ نشان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں