جب بھی اقتدار اور بلوچستان کے مفادات میں ٹکراو آیا تو جماعت نے اقتدار کو ٹھوکر مار دی مگر عوامی حقوق پر سودے بازی نہیں کی، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام ہی بلوچستان کی حقیقی عوامی، نظریاتی اور نمائندہ جماعت ہے، اور صوبے کی سب سے بڑی عوامی قوت ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جمعیت علماءاسلام نے ہمیشہ نعروں، جذباتی سیاست اور وقتی مفادات کے بجائے عملی جدوجہد، اصولی سیاست اور بلوچستان کے آئینی، سیاسی، معاشی اور قومی حقوق کے تحفظ کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا ہے۔ ہماری جدوجہد اور کارکردگی عوام کے سامنے ایک روشن حقیقت ہے۔ بلوچستان کے حقوق کی جنگ ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خودمختاری، ترقیاتی منصوبوں کا حصول یا عوام کے روزگار اور خوشحالی کا معاملہ، جمعیت علماء اسلام نے ہر محاذ پر فیصلہ کن، تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں جمعیت علماءاسلام نے وہ تاریخی کامیابی حاصل کی جس نے بلوچستان کی مالی تقدیر بدل دی۔ جماعت نے وسائل کی تقسیم کو صرف آبادی تک محدود رکھنے کے فرسودہ فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے پسماندگی، غربت، محصولات، مالی نظم و ضبط، رقبہ، کم آبادی مگر وسیع جغرافیہ (Inverse Population Density)، عبوری معاونت اور ترقیاتی ضروریات جیسے بنیادی عوامل کو این ایف سی فارمولے میں شامل کروا کر بلوچستان کے لیے ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا مالی ڈھانچہ تسلیم کرایا، جس کے نتیجے میں صوبے کا بجٹ محض چند ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً بارہ سو ارب روپے تک پہنچا، جو بلوچستان کی تاریخ کا ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ تاریخی کامیابی تھی جس کے بعد جمعیت علماءاسلام کو دانستہ طور پر اقتدار اور فیصلہ سازی سے دور رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی، اور کبھی قوم پرست جماعتوں، کبھی مصنوعی سیاسی جماعتوں اور کبھی عوامی مینڈیٹ سے محروم عناصر کو صوبے پر مسلط کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچستان مسلسل بدامنی، سیاسی انتشار، معاشی بدحالی، انتظامی ناکامی اور عوامی محرومیوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوم پرست جماعتوں کی پوری سیاست جمعیت علماء اسلام پر تنقید سے آگے نہیں بڑھ سکی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے جن حقوق کے نام پر وہ دہائیوں سے سیاست کرتی رہی ہیں، ان حقوق کو آئینی اور عملی شکل دینے کا اعزاز جمعیت علماء اسلام کو حاصل ہے۔ عوام جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے فیصلے کرتے ہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ نتائج دیے ہیں۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام نے اقتدار کو کبھی منزل نہیں سمجھا بلکہ عوام کے حقوق کو اقتدار پر ترجیح دی، اور جب بھی اقتدار اور بلوچستان کے مفادات میں ٹکراو¿ آیا تو جماعت نے اقتدار کو ٹھوکر مار دی مگر عوامی حقوق پر سودے بازی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے حصے کو دس فیصد سے بڑھا کر پچیس فیصد تک لانے اور منصوبے کے اربوں ڈالر کے اخراجات سے صوبے کو مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دلوانے کے لیے جمعیت علماءاسلام نے مسلسل، جرات مندانہ اور تاریخی جدوجہد کی، جبکہ سیندک سمیت دیگر معدنی وسائل کے معاملے میں بھی جماعت کا دوٹوک مو¿قف ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا اور ناقابلِ تنسیخ حق بلوچستان کے عوام کا ہے اور اس حق پر کسی قسم کی سودے بازی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسے قومی نوعیت کے میگا منصوبے اس وقت تک بلوچستان کے لیے حقیقی ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتے جب تک ان میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کی ضمانت، منصفانہ ریونیو شیئرنگ، جامع سیکیورٹی پلان، مو¿ثر رسک مینجمنٹ اور مقامی آبادی کی فیصلہ سازی میں شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جمعیت علمائاسلام کے بعد کئی حکومتیں بدلیں، متعدد سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں، مگر بلوچستان کو نہ کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ ملا، نہ وسائل پر اس کا حق مزید مستحکم ہوا اور نہ ہی عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوئی تاریخی اقدام کیا گیا، جس کے باعث آج بلوچستان بدترین امن و امان کے بحران، بے روزگاری، غربت، معاشی زوال، ترقیاتی جمود اور حکومتی بے حسی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحرانوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبے کی باگ ڈور بارہا ایسے عناصر کے حوالے کی گئی جن کی نہ عوام میں جڑیں تھیں، نہ عوامی مینڈیٹ تھا اور نہ ہی بلوچستان کے مسائل، تاریخ اور حساسیت کا ادراک، اسی لیے وہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور صوبے کو بحرانوں سے نکالنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے آئینی حقوق، وسائل، خودمختاری، امن، ترقی، خوشحالی اور عوام کی باوقار زندگی کے لیے اپنی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھے گی، کیونکہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت صرف حقیقی عوامی قیادت، آئین کی بالادستی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی حقوق کے غیر متزلزل تحفظ میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان بدترین امن و امان کے بحران سے گزر رہا ہے، جہاں عوام کی جان، مال اور عزت کسی بھی سطح پر محفوظ نہیں رہی۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں قتل، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور شاہراہوں پر مسلح کارروائیاں معمول بنتی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت مکمل بے بسی، نااہلی اور بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے شاہرگ میں آج مزدوروں کے اغوا کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقے کو نشانہ بنانا انتہائی انسانیت سوز اور قابلِ مذمت عمل ہے، جس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں ریاستی رٹ کمزور اور عوام غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والے تمام مزدوروں کی فوری، محفوظ اور باعزت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مو¿ثر، ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محض بیانات اور دعوو¿ں سے عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی، بلکہ امن کا قیام، شاہراہوں کا تحفظ، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور ریاستی عملداری کی بحالی اس کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، جس میں مسلسل ناکامی نے عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں