افغانستان کی وجہ سے پاکستان پر بدترین دباؤ،کسی اہم لیڈر نے ملاقات کا وقت نہیں دیا، احسن اقبال

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو کسی قابل ذکر سربراہ مملکت نے ملاقات کا وقت نہیں دیا، شرمندگی سے بچنے کیلئے جنرل اسمبلی سے ویڈیو خطاب پر ہی صبروشکر فرمائیں گے، جبکہ افغانستان کی وجہ سے پاکستان پر بدترین سفارتی دبا ہے، ایسے میں وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نہ جانا غیردانشمندانہ فیصلہ ہے۔انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک اطلاع ہے کہ سیلیکٹڈ وزیر اعظم عمران نیازی کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کسی قابل ذکر سربراہ مملکت نے ملاقات کے لئے ٹائم نہیں دیا لہذا شرمندگی سے بچنے کے لئے ویڈیو خطاب پہ ہی صبر و شکر فر مائیں گے۔ دوسری اطلاع ہے کہ سمندر کے اوپر اڑنے سے منع کیا گیا ہے، واقفان حال تصدیق فرمائیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان بدترین سفارتی دبا کا سامنا کر رہا ہے ہمارے وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نہ جانا اور اہم سربراہان مملکت سے ملاقاتیں نہ کرنا نہایت غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے جبکہ ہمسایہ ملک اس موقع کا ہمارے خلاف بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے بھارت کی لائن آف کنٹرول سے دراندازی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جعلی مقابلوں، نسل کشی اور فالس فلیگ آپریشنز کے لیے ایسے الزامات کا تسلسل رکھتا ہے، عالمی برادری کو افغانستان کا ہر ممکن ساتھ دینا ہو گا، ساتھ لے کر چلنا ہو گا، وزیراعظم(آج)جمعہ کو24 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، کشمیر بنیادی نقطہ ہو گا، پاکستان اور تاجکستان کے مابین متعدد معاہدات، تعاون کی یادداشتوں سمیت 9 دستاویزات پر دستخط کیے،طالبان سیاسی انتظام میں وسعت اور مختلف قومیتوں کے افراد کی شمولیت خوش آئند ہے، افغانستان کو انسانی المیہ، معاشی مسائل سے بچانے کے لیے امداد یقینی بنانا ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں