بلوچستان میں مہنگائی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومتی ناتجربہ کاری اور ابتر حکمرانی سے ملک بلخصوص بلوچستان میں مہنگائی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ڈالر، پیٹرول،آٹے، دالوں، گھی سمیت ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے حکومت عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کر کے بھوک و افلاس سے مارنا چاہتی ہے عمران خان اگر ملک نہیں چلا سکتے تو اقدار چھوڑ دیں لیکن ملک کا وجود داؤ پر نہ لگائیں، یہ بات انہوں نے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 20کلو آٹے کا تھیلا اب 1400روپے تک پہنچ رہا ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ خواب خرگوش میں ہیں ملک میں بلعموم اور بلوچستان میں بلخصوص انتظامی اسٹرکچر اس قدر بیٹھ چکا ہے کہ یہاں پر کوئی نگرانی ہے جس کا جتنا دل کر رہا ہے نرخ بڑھا کر اشیاء فروخت کررہا ہے انہوں نے کہاکہ ہر ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں دو بار اضافہ کرنا، معیشت تباہ کرنا، روپے کی قیمت کو بد ترین سطح پر گرانا حکومت نے کارنامے ہیں یہ سب کچھ پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہیں کیونکہ پی ٹی آئی آئی ایم ایف کی بی ٹیم بن کر ملک میں مسلط کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ ڈالر 172روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے پیٹرول کو 124روپے فی لیٹر پر لیکر جانے کے بعد اب ایک بار پھر 5روپے کا اضافہ کرنے کی تیار ی کی جارہی ہے عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت ملک کے ساتھ کرنا کیا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے جس سے عوام پریشان اور بھوکے رہنے پر مجبور ہیں پی ٹی آئی کی حکومت ملک کے لئے رسک بن چکی ہے اس کا جتنا جلدی ہوسکے خاتمہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر ملک نہیں چلا سکتے تو اسے تباہ بھی نہ کریں اور اقتدار چھوڑ دیں تاکہ عوام اور ملک کو بچایا جا سکے


