حب مغربی بائی پاس منصوبے کا پل روڈ کی الائمنٹ سے آؤٹ
حب(نمائند ہ انتخاب)حب،عجب انجینئرنگ کی غضب کہانی 14کروڑ روپے سے زائد ایسٹرن بائی پاس سڑک منصوبے کا پل روڈ کی الائمنٹ سے آؤٹ ہو گیا پل کو روڈ کی سیدھی سمت میں لانے کیلئے دوبار ہ کئی سومیٹر ارتھ فلنگ کا کام شروع کردیا گیا اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے مغربی بائی پاس کی تعمیر کے بعد ساڑھے 4کلو میٹر طویل 14کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے مشرقی بائی پاس منصوبے پر کام کا آغا کیا گیا ذرائع بتاتے ہیں کہ منصوبہ صوبائی حکومت کی PSDPمیں رکھنے کے بعد روڈ کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول کی کوشش کی گئی قبل ازیں حب ندی پل کے ساتھ ندی کے پشتے پر ارتھ فلنگ کی گئی جبکہ بعد میں چند فرلانگ پر چھوٹے پل کے قریب سڑک کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ذرائع بتاتے ہیں کہ حب مشترقی بائی پاس منصوبے کاسنگ بنیاد رکھنے کی جلدی اور عجلت میں پہلے سڑک کی تعمیر کیلئے ارتھ فلنگ کی گئی اور سڑک کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا گیا جبکہ ندی پر پل کی تعمیر کا ڈئزائن بعد میں بنایا گیا اور جب پل کی تعمیر مکمل ہو ئی تو یہ منظر سامنے آیا کہ روڈ کے دونوں اطراف کی الائمنٹ پل کے برابر نہیں آرہی یعنی سڑک ایک طرف تو پل دوسری جانب ہو گئے ذرائع بتاتے ہیں کہ انجینئرنگ نقطہ نظر سے پہلے برج ڈئزائن کیا جاتا ہے پھر اسکے بعد روڈ کی الائمنٹ اسکے مطابق کی جاتی ہے لیکن یہاں پر مشرقی بائی پاس کے منصوبے میں تختی سجانے کی دوڑ میں عجب انجینئرنگ کی غضب کہانی نے جنم لے لیا تاہم اب بھی متعلقہ سرکاری محکمے نے ہار نہیں مانی بلکہ سڑک کو پل کی سیدھ میں لانے کیلئے پل کے دونوں اطراف میں سڑک کی الائمنٹ میں لانے کیلئے کئی سومیٹر نئے سِرے سے ارتھ فلنگ کر کے سڑک کو پل کے برابر لانے کی کوشش جاری ہیں بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ منصوبہ دوسالہ مدت کا تھا اور جون 2021 ء میں مکمل ہونا تھا لیکن فنڈز کی قلت آڑے آگئی اور اس منصوبے میں مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے اور اب یہ منصوبہ جون 2022ء میں مکمل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔


