قاتلوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے بھائی کا کیا قصور تھا؟ جلیل سنجرانی کے بھائی کا پریس کانفرنس
پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق جلیل سنجرانی کے بھائی نے کوئٹہ پریس کلب میں اپنے ایک پریس کانفرنس سے حکومتی نمائندوں اور سیکورٹی اداروں سے اپنے بھائی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بھائی پنجگور میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جب انہیں گولیوں سے چھلنی کرکے قتل کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ انہیں پنجگور کے علاقے غریب آباد میں فائرنگ کرکے بے گناہ شہید کر دیا گیا، چونکہ میری فیملی اور میرے بھائی کے کسی کے ساتھ کوئی دشمنی اور لین دین کے حوالے سے کوئی معاملات نہیں تھے اس لیے میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میرے بے گناہ بھائی کو شہید کرنے والے عناصر کون ہیں؟ اور اس بہیمانہ اور مظلومانہ قتل سے کسی کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے بلوچستان بھر کے غیور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بلوچستان بھر کے لوگوں کا مشکور اور ممنون ہوں جنہوں نے بلا سیاسی و قبائلی تفریق جلیل سنجرانی کیلئے آواز اٹھایاانہوں نے کہا کہ اہل بلوچستان کا خلیل سنجرانی سے اظہار محبت اور قاتلوں سے اظہار نفرت نے انہیں منہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ لوگوں کے توسط سے ان سفاک درندوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے بھائی کا کیا قصور تھا اور میرا کیا گناہ تھا انکے والیدن معصوم بچوں، بیوی اوربہن بھائیوں کا قصور کیا تھا ان سے بڑھاپے کا سہارہ بچوں سے باپ کی شفقت بیوی سے زندگی کا ساتھی اور بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب سے انکی امیدوں کا کرن ان سے کیوں چھین لیا؟ کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر عوام کو شعور دے رہے تھے یاکہ خود کفیل ہوکر بوڑھے والدین اور معصوم بچوں کا سہارہ بن گئے تھے؟کیا ان کا قصور یہ تھا کہ اہل علاقے کو جہالت سے نکال کر انہیں علم و شعور سے نوازنا چاہتے تھے۔
انہوں نے سنجرانی کے قاتلوں سے پوچھتے ہوئے کہا کہ میں ان بچوں کو کیا جواب دوں کہ ان کے والد کو کس نے اور کیوں کر قتل کیا؟ زندگی بھر کیلئے یہ خلش میرے لیے سوہان روح بن گیا کہ میرے بھائی کا قصور کیا تھامیرا قاتلوں سے سوال ہے کہ وہ کیوں کر اس طرح بیدردی سے خون ناحق بہا رہے ہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کہ بچے کیسے جوان ہوتے ہیں، میرے بھائی کی روح اس وقت تمام اہلِ علاقہ، عوام اور آپ صحافی حضرات سے پوچھ رہی ہے کہ میرا قصور کیا تھا؟
انہوں نے حکومت سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ جب پڑھے لکے نوجوان کو اسطرح قتل کر دیا جائے اور ان ک قاتل اب بھی دنداتے پھرتے ہوں تو اس سرزمین پر کون محفوظ ہے؟ انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیرداخلہ، آئی جی پولیس کمشنر مکران ڈی سی پنجگور ڈی پی او پنجگور سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال پوچھا کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود اب تک قاتلوں کو کیوں گرفتا ر نہیں کیا گیاانہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ انتظامیہ مکمل طور پر قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اس سے کیا تاثرلیا جائے


