ایم ٹی آئی کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن
کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہاہے کہ ایم ٹی ائی کے کالے قانون کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا عمل کسی صورت قابل قبول نہیں ہے،اوپی ڈی بائیکاٹ اس گھناؤنے عمل کیخلاف ہے غریب مریضوں کو واردز اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں سروز فراہم کررہے ہیں،مسائل کے حل اور مطالبات کے حق میں، نااہل سیکرٹریز صحت اور خواب خرگوش میں سونے والی جام حکومت کے خلاف احتجاجی عمل کو توسیع دیکر احتجاجی ریلیاں نکالی اور دھرنے دئیے جائیں گے۔ان خیالات کااظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے یہاں اپنے بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ نااہل سیکریٹریز صحت اور ناکارہ جام حکومت نے محکمہ صحت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے، ہسپتالوں کا نظام درہم برہم ہے، غریب مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں، صوبے کے تمام تر سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے، بجائے اس کے کہ نااہل سرکار ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنائے وہ ہسپتالوں کی نجکاری کرکے رہی سہی کثر بھی پوری کرئے ہیں،ترجمان نے بتایا کہ نااہل نوشیروان برکی کا بنایا ہوا ایم ٹی ائی کا کالا قانون 5 سال قبل خیبر پختون خواہ اور بعد میں صوبہ پنجاب کے چند سرکاری میں لاگو اور ناکام ہو چکاہے، وہاں پر اس کالے قانون کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے بعد سے جو تباہی اور بد حالی ہوئی ہے وہ کسی سے ڈکھی چھپی نہیں ہے، نجکاری کے بعد غریب مریضوں کا واحد آسرا سرکاری ہسپتال سرکاری نہیں رہیگا بلکہ یہاں بھی پھر مفت میں ملنے والی تمام تر صہولیات بھاری رقم کے حوض ملے گی،ترجمان نے بتایا کہ نجکاری کے بعد ہسپتال کو ٹھیکیدار کے حوالے کیا جائے گا، اور ٹھیکیدار ہسپتال کو منافع کے غرض سے ہی چلائے گا، ہسپتالوں میں خون کے ٹیسٹس کی قیمت 50روپے سے بڑھ کر 500 سے 1000 روپے ہوجائے گی، 500 روپے میں ہونے والا اپینڈیکس کا سادہ آپریشن 20000 روپے میں ہوگا، مفت میں ملنے والی تمام تر ادوایات کی فراہمی بند ہوجائے گی، ہسپتال میں داخلہ فیس 50روپے سے بڑھ کر 500 روپے روز ہوگا، ایکس رے، الٹراساونڈ اور سی ٹی سکین کیلئے بھاری برقم قیمت ادا کرنی پڑیگی،ترجمان نے جام حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہیلتھ سیکٹر میں انقلاب برپا کرنے کا دعوی کرنے والی نااہل اور چند دنوں کی مہمان جام سرکار بلوچستان کے غریب مریضوں کا خون چوس کر پیسہ بنانے کی گہنونی سازش رچا رہے ہیں اور پنجاب و کے پی کے سے مسترد اور ناکام شدہ کالا قانون بلوچستان میں لاگو کرہیے ہیں جسے وائی ڈی اے بلوچستان کسی صورت تسلیم نہیں کریگی اور اس کیخلاف ہر حد تک جائیگی ترجمان نے بتایا کہ ہمارا آو پی ڈی بائیکاٹ کا مقصد غریب مریضوں کیلئے ہسپتالوں میں صحت کے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، مریضوں کو تکلیف نہ ہو اس لیے وارڈز اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کو مکمل سروز دے رہیے ہیں، آخر میں ترجمان نے بتایا کہ مسائل کے حل اور مطالبات کے حق میں نااہل سیکریٹریز صحت اور خواب خرگوش میں سونے والی جام حکومت کے خلاف احتجاجی عمل کا داہرہ وسیع کرتے ہوئے بہت جلد ہسپتالوں میں احتجاجی کیمپ لگایا جائیگا اور ساتھ ہی ساتھ ہسپتالوں، پریس کلب اور سول و سی ایم سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا جائیگا اور دھرنے دئیے جائیں گے۔


