کوئٹہ، چھاتی کے سرطان میں خطرناک حد تک اضافہ

کوئٹہ: پاکستان میں چھاتی کے کینسر میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، ملک میں ہر سال40ہزار خواتین اس موذی مرض کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں، آگہی کے فقدان اور بروقت تشخیص نہ ہونے سے صورتحال مذید خرابی کی طرف جارہی ہے، موذی مرض کی شرح میں غیر معمولی اضافے نے ماہرین صحت کی تشویش اور پریشانی میں غیر معمولی اضافہ کردیا، سینار ہسپتال اور بی ایم سی میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں یہ بات شیخ زائد ہسپتال کی ماہر برسٹ کینسرآگاہی ڈاکٹر عائشہ نے ادارہ بحالی مستحقین کوئٹہ میں علاقے کی خواتین کے لیے چیئرپرسن ادارہ بحالی مستحقین بیگم ثریا اللہ دین کی ہدایت پر منعقدہ آگاہی سیمینار کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر ادارہ بحالی مستحقین کی سیکرٹری خزانہ صبا مگسی،مسز ظہرہ درانی،مسرت اجمل،ریحانہ جاوید،نہگت شبیع بھی موجود تھیں۔ صبا مگسی نے اس موقع پر بتایا کہ یہ آگاہی سمینار اہلیہ صدر پاکستان بیگم ثمینہ عارف علوی کی خصوصی مہم کا حصہ ہے، ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں چھاتی کے کینسر کے غیر معمولی پھیلاؤ، وجوہات، اور علاج معالجے کی سہولیات کے حوالے سے آگاہی کے لیے طبی ماہرین اکتوبر کے پورا مہینہ میں سرگرم رہتے ہیں جس کا مقصد کینسر سے بچاو کے اگاہی مہم کا مقصد مرض سے متعلق آگاہی اور علاج کی سہولیات کو بہتر اور عام کرنے کی ضرورت پر زور دینا ہوتا ہے۔ چھاتی کا کینسر خاندان در خاندان جینز کے ذریعے بھی پھیلتاہے یعنی اگر ماں خالہ، نانی، پھوپھی کو ہے تو خونی رشتوں سے بھی منتقل ہوتا ہے، عورتوں میں بہت زیادہ ہے لیکن مردوں میں کم لوگوں کو ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں