کوئٹہ، ایک طرف گیس نہیں تو دوسری جانب گیس کم استعمال کرنے پر جرمانہ کیا جارہا ہے، شہری پریشان
کوئٹہ :سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صارفین کو بھیجے جانے والے پی یو جی /سلو میٹر چارجز کے خلاف کوئٹہ کے شہری پھٹ پڑے، آئے روز گیس کمپنی کے چکر لگا کر اور مختلف فورمز پر شکایات کرکے تھک گئے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں، پی یو جی /سلو میٹر چارجز کے ساتھ جی ایس ٹی کے نئے چارجز بھی کمپنی کی جانب سے بلوں میں بھیجے جارہے ہیں، ایک طرف گیس نہیں تو دوسری جانب گیس کم استعمال کرنے پر جرمانہ کیا جارہا ہے جو ظلم کے سوا کچھ نہیں، کمپنی ملازمین سے پی یو جی /سلو میٹر چارجز کے متعلق قانون کا پوچھتے ہیں تو مسکرا کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار محمد عابد، احسن خان، رقیب اللہ ودیگر نے گیس کمپنی کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ گیس کمپنی نے ان سمیت ہزاروں صارفین کو بے جا چارجز بھیج کر ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ ایک طرف گیس کو ناقابل تجدید ذرائع قرار دے کر احتیاط سے استعمال کرنے کی تاکید کی جاتی ہے تو دوسری جانب گیس کم استعمال کرنے پر پی یو جی /سلو میٹر چارجز کا صارفین کو سامنا کرنا پڑتا ہے، گرمیوں کے سیزن میں ماہوار 531روپے پی یو جی /سلو میٹر چارجز جبکہ 90روپے پی یو جی /سلو میٹر جی ایس ٹی کی مد میں وصول کئے جارہے ہیں جبکہ سردیوں میں یہی چارجز 28سو روپے تک وصول کئے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا جو صارفین کے لئے ناقابل برداشت ہیں ہم اس سلسلے میں گیس کمپنی کے پاس شکایات لے کر آتے ہیں تو کوئی ہمیں سنتا نہیں بلکہ ہم کچھ نہیں کرسکتے کی رٹ لگائے کمپنی حکام بیٹھے ہیں۔ا نہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مختلف فورمز پر شکایات بھی کی گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ صادر نہیں ہوا،صارفین نے دعوی کیا کہ جب وہ مذکورہ چارجز کے متعلق گیس کمپنی حکام سے قوانین کا پوچھتے ہیں تو وہ انہیں مسکرا کر یا پھر مختلف حیلے بہانے کرکے ٹال دیتے ہیں، بعض صارفین نے الزام عائد کیا کہ گیس کمپنی ملازمین عوام سے ناحق رقوم بھی بٹور رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شکایات کے باوجود بھی ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک طرف پی یو جی /سلو میٹر چارجز ہیں تو دوسری جانب اسی پر جی ایس ٹی بھی عائد کردیا گیاہے، بھلا جرمانے پر جی ایس ٹی کیسا قانون ہے؟ انہوں نے ریجنل وفاقی محتسب ودیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صارفین کے حقوق کی پامالی کا نوٹس لے اور اس سلسلے میں احکامات دیں تاکہ صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


