بلوچستان میں عوام استحصال کا شکار ہیں،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ

خضدار: جماعت اسلامی بلوچستا ن کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان میں عوام استحصال کا شکار ہیں لوگ غربت اور مہنگائی سے تڑپ رہے ہیں ہمیں اس غربت پر فخر ہے تاہم ہماری عزت نفس مجروح نہ ہونے دیا جائے اس ملک میں شریف النفس لوگوں کی قدر نہیں ہے منشیات فروش زمین قبضے کرنے والے لوگ ایم پی اے اور ایم این اے بن جاتے ہیں۔گوادر کے محنت کش کے بنیادی مسائل حل نہیں کیئے گئے تو ماہِ نومبر میں بلوچستان کا سب سے بڑا دھرنا دیں گے اور یہ دھرنا غیر معینہ مدت کے لئے ہوگا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہیں اس وقت تک ہم گوادر پورٹ پر رہیں گے اس سے پہلے بھی ہم نے دہرنا دیا تھا جس میں 20ہزار ماہی گیر نکلے تھے تین دن تک ہم روڈ پر رہے اور ایک لمحے کے لئے بھی نہیں اٹھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد خضدار میں ”میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے میزبان مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد کے مدیر و جماعت اسلامی خضدار کے امیر مولانا محمد اسلم گزگی تھے۔ کانفرنس سے جے آئی خضدار کے امیر مولانا محمد اسلم گزگی نیشنل پارٹی خضدار کے جنرل سیکریٹری میر اشرف علی مینگل پی ٹی آئی کے رہنماء انعام اللہ مینگل نے خطاب کیا۔ جب کہ اس موقع پر پاکستان سنی تحریک بلوچستان کے جنرل سیکریٹری قاری گل حسن قلندرانی مرکزی کونسل کے رکن نجیب اللہ زہری جماعت اسلامی خضدار کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالباسط شاہد جماعت اسلامی خضدار کے سابق صدر مولانا امان اللہ مینگل حاجی علی اکبر زہری عبیداللہ صحرائی قاری عنایت اللہ ربانی حافظ صالح سیاہ پاد میر زین زہری میر نوید زہری مولانا عبدالباسط گزگی،عبدالرازق شاہوانی،و دیگر بھی موجود تھے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کہنا تھاکہ ہم پاکستان میں برابر کے شہری ہیں یہاں کے لوگ بھی انہی حقوق کے مالک ہیں جو دوسرے صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں لیکن بد قسمتی سے بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ مظالم دیکھے ہیں مصائب جھیلے ہیں انہیں زندگی کی سہولیات میسر نہیں ہیں آج بھی گوادر کے لوگ قسم پرسی کے دور سے گزر رہے ہیں نہ وہاں پانی ہے کہ نہ روز گار اور نہ ہی زندگی کی دیگر سہولیات وہاں کے عوام کو میسر ہیں تاہم عوام کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے اور عوام الناس کی زندگی اجیرن ہے ایسے حالات میں عوام میں غم وغصہ نہیں آئیگا تو اور کیا ہوگا؟اس سلسلے میں ہم نے تحریک شروع کردی ہے اور یہ تحریک انشاء اللہ آگے بڑھے گی عوام کی جانب سے ہمیں پذیرائی مل رہی ہے اور آگے چل کر اور بھی زیادہ یہ تحریک طول پکڑے گی اگلے ماہ نومبر میں ہم حقوق کی خاطر گوادر میں دھرنا دینے کا پلان بنار ہے ہیں اس سلسلے میں ہم نے حکمرانوں کو مسائل کے حل کے لئے تیس دنوں کی مہلت دے رکھی ہے اور تیس دنوں میں سے بارہ دن گزرگئے ہیں۔ اگلے چند روز میں ملا فاضل چوک پر پریس کانفرنس کرکے دھرنے کی تاریخ کا اعلان کردیں گے یہ دھرنا تاریخی ہوگا غیر معینہ مدت تک گوادر پورٹ پر رہیں گے ان کا کہنا تھاکہ ہماری عزت نفس مجروح ہونے سے بچایا جائے ہمیں غربت پر پریشانی نہیں ہے بلکہ اپنی عزت ہمیں کافی عزیز ہے اس سلسلے میں عوام کو بیدار کرناچاہتے ہیں لوگ ہمارے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک میں آئین پر کبھی بھی عملداری نہیں ہوئی ہے آپ نے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا حشر بھی دیکھا انہیں کس جرم میں پندرہ سال تک غیراعلانیہ حراست میں رکھا گیا اور قید کی حالت میں دنیاء سے چلا گیا اس ملک میں وہ زیادہ معتبر ہے جو جرائم پیشہ ہے اور منشیات کا کاروبار کرتا ہے یازمینیں قبضہ کرتا ہے وہی لوگ ایم پی اے اور ایم این اے بن جاتے ہیں عزت دار لوگوں کی کوئی قدر نہیں ہے ان حالات کو دیکھ کر ہم نے عوام کی رہنمائی اور عوام کے حقوق کے لئے نکلے ہیں عوام ہماری اس تحریک میں شامل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں