بلوچستان میں سیاست، صحافت، سماجی زندگی سمیت ہر شعبہ مسائل کا شکار ہے، بی ایس او

اوتھل:بی ایس او زونل جنرل سیکریٹری اوتھل رضوان بلوچ۔مرکزی سینٹرل کمیٹی ممبر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اعجاز بابا۔بی ایس او اوتھل کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری یاسین بلوچ۔لوامز یونٹ انفارمیشن سیکریٹری بساک شیر خان بلوچ۔ممبر بساک کامریڈ عبدالوحید بلیدی۔بی ایس او کے ممبران بیبرگ بلوچ۔یاسر بلوچ اور صدیق بلوچ نے ارمابیل پریس کلب اوتھل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں سیاست صحافت سماجی زندگی سمیت ہر شعبہ مختلف طرح کے مسائل کا شکار ہیں ان مسائل و مشکلات کے باوجود اپنا فرض ایمانداری و مخلصی سے پورا کرنا یقینی طور پر حوصلہ افزا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قربانیاں ایک دن رنگ لائیں گی اور معاشرے میں مثبت نتائج مرتب کریں گے ہماری پریس کانفرنس کا مقصد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی قیادت کی مکران کے تنظمی دورے کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہی فراہم کرنا ہے اس سے پہلے مرکزی عہدیداران نے ضلع گوادر کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا ہے اور اس کے بعد کیچ آئے ہیں وہاں پر مرکزی عہدیداروں نے عطاشادڈگری کالج، تربت لا کالج اور مکران میڈیکل کالج کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ کیچ کے باشعور عوام،طالبعلموں،سیاسی رہنماں اور دیگر طبقہ ہائے فکر کے لوگوں سے ملاقات کی ہیبلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک پرامن طلبا تنظیم ہے اور ہمارا مقصد بلوچ نوجوانوں کی سیاسی، علمی، شعوری تربیت کرکے انھیں مثبت سیاسی رویوں کی جانب راغب کرانا ہے تاکہ آنے والے وقت میں وہ قومی جدوجہد اور معاشرے کی ترقی و ترویج کیلئے کردار ادا کرسکیں۔ ہمارامقصد بلوچ نوجوانوں کو سیاسی سرکلنگ اور علمی مباحثوں کے ذریعے متحد و منظم کرکے انکی شعوری تربیت کرنا ہے لیکن مقتدرہ قوتوں بلوچ نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور پرامن جمہوری جدوجہد کبھی برداشت نہیں ہوا ہے اس لئے یہاں کے تعلیمی اداروں کو چاونیوں میں تبدیل کرکے سیاسی جدوجہد کے راستے میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دعووں کی حد تک یہاں کچھ نیم تمام تعلیمی ادارے تعمیر تو کیے گئے ہیں لیکن ان کو بھی مختلف مسائل کا شکار بناکر وہاں تعلیمی عمل کو متاثر کیا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبا کی سنجیدہ علمی مباحثوں پر قدغن لگاکر صرف اور صرف رٹا سسٹم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ مرکزی عہدیداروں نے گذشتہ دنوں تحصیل تمپ کا تنظیمی دورہ کیا تھا جہاں پر انھوں نے طلبا و سیاسی رہنماں سے تعلیمی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔اس وقت تمپ کا واحد انٹر کالج و دیگر اسکولیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اساتذہ کی کمی و انفراسٹرکچر کی تباہ حالی سے وہاں کے طلبا کاسنہرا وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں سماجی برائیوں کی جانب دھکیلنے کی باعث بن رہی ہیں۔ اسی طرح عطا شاد ڈگری کالج کیچ کا بھی دورہ کیا جہاں تربت زون کی جانب سے نئے آنے والے طلبا کے اعزاز میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کالج کے پرنسپل سے ملاقات کی اور کالج کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی2 نومبر کو مرکزی دوستوں نے اساتذہ اور طالبعلموں سے ملاقات کرنے کیلئے تربت یونیورسٹی کا دورہ کرنے گئے لیکن بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے یہاں کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی زبان بول کر طلبا کی جمہوری آواز کو دبانے کے درپے ہیں یونیورسٹی کے گیٹ پہنچتے ہی گیٹ میں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے مرکزی دوستوں کو روک کر تعارف کا پوچھا تو انھوں نے اپنا تعارف کرایا لیکن اس سے انکا رویہ بدل گیا۔ سیکورٹی انتظامیہ کی جانب سے بلاوجہ مرکزی عہدیداروں کو یونیورسٹی جانے نہیں دیا گیا۔ تنظیم کی جانب سے چیف سیکورٹی آفیسر سے رابطہ کرکے وجہ جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کی داخلے پر پابند لگادی گئی ہے۔ اس کے بعد مرکزی دوستوں نے یونیورسٹی گیٹ کے سامنے احتجاجا دھرنا دیا لیکن افسوس ہے کہ یونیورسٹی کے سیکورٹی انچارج نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے انتہائی نفرت انگیز طریقے سے پیش آکر مسئلے کو سنگین کرنے کی کوشش کی پھر مرکزی عہدیداروں نے یونیورسٹی کے سامنے بیٹھ کر میڈیا کے کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے زونل اراکین و تنظیم کے ساتھیوں کو اطلاع دی۔ اس کے بعد جب معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو یونیورسٹی کے پروٹوکول آفیسر جناب میر باہڑ اور پروفیسر جمیل بادینی بحیثیت بلوچ ہمارے پاس آئے اور بلوچیت کی بنیاد پر انھوں نے ہم سے درخواست کی کہ آپ اپنا دھرنا ختم کرکے ہمارے ساتھ آئیں۔ ان کی احترام میں مرکزی دوستوں نے وقتی طور پر اپنا دھرنا ختم تو کردیا لیکن یہ مسئلہ صرف ایک طلبا تنظیم کا نہیں بلکہ ہر بلوچ اسٹوڈنٹ کا ہے۔ سیکورٹی کے نام پر تربت یونیورسٹی کے گیٹ میں روز طلبا اساتذہ و دیگر اسٹاف کی تذلیل کی جارہی ہیمرکزی دوستوں کو تربت یونیورسٹی کے طلبا اساتذہ و دیگر ملازمین سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت یونیورسٹی مختلف مسائل کا شکار ہے۔ یونیورسٹی میں میس سے لیکر ڈیپارٹمنٹس تک طلبا کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن جوں وہ ان مسائل پر آواز اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں ڈراپ آٹ کی دھمکی دیکر مختلف طریقوں سے ہراساں کرکے خاموش کرایا جاتا ہے۔اس وقت یونیورسٹی انتظامی بے ضابطگیوں،سفارشی کلچر اور اقربا پروری کی وجہ سے مالی دیوالیہ پن کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب انتظامیہ ان معاملات کو دبانے کیلئے ہرطرح کے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔کسی بھی تعلیمی ادارے کا دور و مدار وہاں کے طالبعلم اور اساتذہ ہوتے ہیں انکی تعاون کے بغیر تعلیمی ادارے ترقی نہیں کرسکتے تعلیمی اداروں میں طلبا کے خدشات اور انکے بنیادی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں پر اتنظامیہ نے آمرانہ شکل اختیار کرکے ایک جمہود اور قدغن لگایا ہوا ہے تربت یونیورسٹی ایک خوبصورت تعلیمی ادارہ ہے جس کی اہمیت مکران سمیت بلوچستان کے لوگوں کیلئے غیرمعمولی ہے۔ اس تعلیمی ادارے کو صحیح انتظامی طریقوں سے چلاکر یہاں علمی ماحول اور طلبا کے مابین معنی دار مبابحثوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ناکہ آمریت کے زور پر اس تعلیمی ادارے کو سیکورٹی چاونی میں تبدیل کرکے طلبا اساتذہ کے حقوق بزور سلب کیے جاسکتے ہیں ہم تربت یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبا کے تمام جملہ مسائل جلد از حل کرانے پر زور دیتے ہوئے یہ واضح کرانا چاہتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیوں اورطلبا کے مابین علمی نشتوں پر قدغن معاشرے میں بہت منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور ایک قومی تنظیم کی حیثیت سے ان قدغنوں کو کسی بھی صورت خاطر لائے بغیر اپنا پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے اگر اس طرح سیاسی جدوجہد کا جواب جبر اور قدغن سے دیا گیا تو ہم احتجاج کی تسلسل کو مزید وسیع دیکر بھرپور مذاحمتی ردعمل دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں