تحصیل بھاگ کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال مسائل کا گڑھ، سیکریٹری صحت کے سہولیات کی فراہمی دعوے بے سود

بھاگ:تحصیل بھاگ کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال مسائل کا گڑھ بن چکا ہے سیکریٹری صحت عزیز احمد جمالی کا سہولیات کی فراہمی دعوہ بے سود رہ گیا ہسپتال تاحال سہولیات کا منتظر ہے ایم ایس اور لیڈی ڈاکٹر اسٹاف کی کمی اور علاج کی عدم سہولیات کیوجہ سے ہسپتال موت کا گڑھ بن چکا ہے سول ہسپتال کی تباہی اور مریضوں کی حالت زار کا نوٹس لیا جائے سیاسی سماجی کا حلقوں مطالبہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال بھاگ میں ایم ایس لیڈی ڈاکٹر اور ادویات کی کمی سے مختلف اوقات میں بچوں اور کئی خواتین سمیت متعدد ہلاکتوں ہسپتال کی حالت زار نے سیاسی سماجی حلقوں کو جنجھوڑ کے رکھ دیا ہے لیکن حکمرانوں میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کچھ عرصہ قبل سیکریٹری صحت عزیز جمالی نے بھاگ سول ہسپتال دورہ کیا ڈاکٹر اور سہولیات کی ہر ممکن فراہمی کا وعدہ کیا لیکن وعدے پر تاحال عمل درآمد نہ ہوسکا صوبائی حکومت کی کارکردگی کھوکھلے بیانات تک محدود ہوچکی تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کیوجہ سے مریض ذلیل و خوار ہوکر علاج کیلئے اپنے پیاروں کو جیکب آباد سبی کوئٹہ لیجانے پر مجبور ہیں جبکہ مزدور طبقہ غربت مہنگائی کی وجہ سے اپنے گھر میں سسک کر مرجاتا ہے سول ہسپتال میں ادویات کا کوٹہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے ہسپتال میں سٹاف کی شدید کمی ایم بی بی ایس ڈاکٹر لیڈی ڈاکٹر ڈینٹل ڈاکٹر تک دستیاب نہیں عوام الٹراساؤنڈ ایکسرے کی تھیٹر پاس کینولہ لگانے کیلئے پریشان ہیں سانپ بچھو کتے کے کاٹنے کے ویکسین کے تک موجود نہیں ہیں حکومت بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بلند وبانگ دعوے کرتے نہیں تھکتی لیکن تحصیل بھاگ کی عوام صاف پانی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ ہسپتال میں مرہم پٹی کے لیئے بینڈیج پائیوڈین سکاٹرن پاؤڈر تک موجود نہیں وہ بھی مریض خرید کر لاتے ہیں ٹراماسینٹر بھی برائے نام نان فنکشنل اور سہولیات کا شدید فقدان ہے ایمرجنسی حالات میں کسی بھی قسم کی سہولیات صفر ہو چکی ہیں ہماری وزیراعلی بلوچستان ڈی جی ہیلتھ سیکرٹری صحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کچھی بولان سے پرزور مطالبہ ہیکہ بھاگ تحصیل کے ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تباہ حالی ادویات ویکسینز بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سمیت ڈاکٹرز کی کمی کا نوٹس لیکر تحصیل بھاگ کی عوام کو صحت کی سہولیات کے لیئے عملی بنیادوں پہ اقدامات کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں