عمران خان کے اقتدار اور سیاست کی شام شروع

تحریر: انورساجدی
اقتدار کی غلام گردشوں میں چوہے بلی اور آنکھ مچولی کا جو کھیل ہورہا ہے وہ اس ریاست کی پرانی روایت ہے وہ دوبارہ چل پڑا ہے 6اکتوبر کے بعد سے اب تک حالات نے جو پلٹا کھایا ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اقتدار کی بے حمانہ جنگ کی وجہ سے میڈیا پہلے سے کہیں زیادہ آزاد ہو گیا ہے کیونکہ صاحبان اقتدار ایک دوسرے کے ساتھ بہت مصروف ہیں اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کا جو ان کا پلان تھا وہ وقتی طور پر معطل ہو گیا ہے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بل سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے چاروں اطراف عمران خان کو گھیرے میں لینے کی کوشش ہو رہی ہے پارلیمنٹ میں عددی اعتبار سے ان کی اقلیتی حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی بل پاس کروا سکے اسی وجہ سے انہوں نے پارلیمنٹ کا طلب کردہ مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا اس اجلا میں عمران خان کے مستقبل کا سنہرا خواب یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل بھی پیش ہونا تھا جس کے ذریعے وہ آئندہ پانچ سال بھی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے اس سلسلے میں ”یوٹیوبر اور بلاگرز“ نے بہت تفصیلی پروگرام پیش کئے ہیں لہذا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں جو ضیافت دی تھی س میں حکومتی اتحاد کے چالیس اراکین نے شرکت نہیں کی حالانکہ عشائیہ میں عمران خان نے ایک جاندار بھاشن دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جو قانون سازی کر رہے ہیں اراکین اسے جہاد سمجھ کر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں بلاگر منصور علی خان کا کہنا ہے کہ یہ غیر حاضر اراکین ہوا کا رخ بھانپ کر اجلاس میں نہیں گئے تھے ان کے بقول بے شمار اراکین ایک ٹیلی فون کی مار ہیں حالانکہ اس مرتبہ کوئی ٹیلی فون کال بھی نہیں گئی تھی لیکن یار لوگ سمجھ گئے تھے کہ ٹیلی فون کال کا نہ آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بڑوں نے اس حکومت کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لئے ہیں پاکستانی تاریخ کے سب سے نڈر اور بے باک بلاگر اسد طور نے یہ انکشاف کیا کہ بلوچستان کی حکمران جماعت باپ کے اراکین نے کہا کہ ہم تو آئندہ الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں اس لئے ہمارے لئے تحریک انصاف کے اجلاسوں میں جانا کوئی ضروری نہیں اسی طرح دو ہم اتحادیوں ق لیگ اور ایم کیو ایم نے حکمران جماعت کے بلوں کی یہ کہہ کر مخالفت کی وہ الیکڑانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے خلاف ہیں یہ دونوں جماعتیں اوپر کے اشارے کے بغیر ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں عمرانی حکومت کے قیام کے کافی عرصہ تک یہ دونوں جماعتیں مسلسل شکایت کر رہی تھیں کہ مرکز میں ان کی کوئی بات نہیں سنی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اتحاد چھورنے کی جسارت نہیں کی۔
صورتحال تبدیل ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی مخصر نوٹس پر طلبی سے لگایا جا سکتا ہے پیشی کے موقع پر عدالت نے وزیراعظم کے افکار عالیہ اور بھاشن سننے سے انکار کر دیا ان سے پوچھا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات یا سمجھوتہ کیسے ممکن ہے جبکہ اس پر اے پی ایس پشاور کے معصوم بچوں اور ہزاروں شہریوں کے قتل عام کا الزام ہے ایک فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ 16دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ کے موقع پر پاکستانی فوج کے سرنڈر جیسا افسوسناک واقعہ ہو گا یہ تو معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو مزید پیشیوں کیلئے بھی بلایا جائیگا کہ نہیں اگر بلایا گیا تو ان کا انجام یوسف رضا گیلانی جیسا نکل سکتا ہے جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے گیلانی کو توہین عدالت پر وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا تھا۔
ایک بلاگر کی رائے ہے کہ ابھی تو ایمپائر نیوٹرل ہوئے ہیں تو حکومت کا حال ہے اگر وہ جانبداری پر آئے تو وزیراعظم عمران خان بلیک ہول میں پھنس جائیں گے اور کوئی ان کی مدد کو نہیں آئیگا قصہ مختصر کہ تقریبا ساڑھے تین سال کے غلط فیصلوں تنہا چلنے اپوزیشن کو درخور اعنا نہ سمجھنے تباہ کن معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عمران خان بند گلی کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ ادارے ان کا مزید بوجھ برداشت کرنے کا محتمل نہیں ہو سکتے۔
عمران خان نے 2014ء کو 126 دن تک پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر کے پارلیمنٹ اور نام نہاد جمہوریت کا گلا گھونٹا تھا لیکن اس وقت کی اپوزیشن نے نواز شریف کا ساتھ دے کر عمران خان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا سوال یہ ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ میں اگر عمران خان کے ساتھ بھی وہی صورتحال پیش آئے تو وہ کس کو مدد کیلئے پکاریں گے اور کون ان کی مدد کرے گا۔
حالانکہ اگر عمران خان سویلین بالادستی کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں تو جمہوریت کی حامی تمام سیاسی قوتوں کو ان کی پشت پر کھڑا ہونا چاہئے لیکن انہوں نے اپنے لئے ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے وہ رفتہ رفتہ سیاسی تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں ان کی حکومت کا سرچشمہ وہ الیکٹیبلز تھے جنہیں جہانگیر ترین اپنا جہاز بھر بھر کے لائے تھے اور جو لوگ عمران خان کو اقتدار میں لا رہے تھے انہوں نے اسٹیج سجا کر انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کر دیا تھا یہ لوگ تو ہوا کے روش پر چلنے والے ہیں ان کی وفادریاں صرف اقتدار اور کرسی کے ساتھ ہوتی ہیں وہ ڈوبنے والے کسی جہاز میں بیٹھنے کے روادار نہیں اگر چند ہفتوں تک عالمی ثالثی کام نہ ائی تو عمران خان کے اقتدار کا جہاز ٹائٹانک کی طرح ڈوب جائیگا یہ جو الیکٹیبلز جن کی حیثیت چوہوں کی ہے وہ ڈوبنے سے پہلے کہیں اور کود جائیں گے۔
سنا ہے کہ ایک اہم ملک کا حکمران عمران خان اور ان کے سرپرستوں کے درمیان صلح و صفائی اور معافی تلافی کیلئے کوشش کر رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ اتنے بڑے حکمران کی بات نہ ٹالی جائے لیکن عمران خان کی سیاسی قوت تو ختم ہو چکی ہے معاشی پالیسیوں کی ناکامی نے حکمرانی کا اخلاقی جواز ختم کر دیا ہے اگر وہ مزید ڈیڑھ سال مسلط رہے تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے جبکہ بیڈ گورننس کی وجہ سے مرکز اور صوبوں کے معاملات ٹھپ ہیں بیورو کریسی نے کام چھوڑ دیا ہے فنڈز کا اجراء بند ہے احکامات پر عملدرامد روک دیا گیا ہے وزیراعظم بیچ بھنور میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور دیگر معاملات کو ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں انہیں جلد تجویز دی جائے گی کہ وہ مائنس ون کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جائین تاکہ تحریک انصاف کی کسی اور شخصیت کو حالات بہتر کرنے کا موقع دیا جائے یہ ”ان ہاؤس تبدیلی“ کی تجویز ہے لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ عمران خان کی ضد اور انا پرست طبعیت یہ تجویز قبول نہیں کرے گی دوسرا راستہ یہ ہوگا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کریں یہ مقابلتاً بہتر راستہ ہوگا لیکن ملک مسائل کے جس گرداب میں پھنسا ہوا ہے ایک اور حکومت آنے کے باوجود حالات میں زیادہ بہتری آنے کا امکان کم ہے یہ مسائل اس وقت تک رہیں گے جب تک یہ تسلیم نہیں کیا جائیگا کہ ملک میں حکومتیں کسی دخل اندازی اور شفاف انتخابات کے ذریعے قائم ہو جائیں اگر انتخابات میں دخل اندازی جاری رہے اور ”ہائبرڈ رجیم“ قائم کرنے کی روایت ترک نہ کی جائے تو پاکستانی جمہوریت اور بادی النظر میں ریاست اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں وہ تمام بحران جاری رہیں گے جو اس وقت درپیش ہیں جب تک آئین پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور پارلیمنٹ کو افضل ادارہ نہیں مانا جاتا تو سیاسی معاشی اور پارلیمانی بحران جاری رہیں گے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی سے قبل کال کوٹھری میں جو کتاب لکھی تھی”میرے قتل کے بعد“ اس مین انہوں نے آنے والے بحرانوں اور خطرات کی نشاندہی کر دی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی بے نظیر کے قتل اور نواز شریف کے سیاسی قتل کے بعد ریاست کو ٹھیک کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے اگر عمران خان نے نئے انتخابات کال کی تو ان کے نتیجے میں امکانی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم جماعتوں کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔
بشرطیکہ دخل اندازی نہ کی جائے لیکن وہ ممکنہ حکومت بھی بے شمار جاری بحرانوں کو شائد ہی حل کر سکے نواز شریف نے جن کی حکومت کو پاکستان کے لوگ آج شدت کے ساتھ یاد کر رہے ہیں
اپنے دور میں دو بہت بڑی ناقابل ازالہ غلطیاں کیں وقت آنے پر ان غلطیوں کے طشت ازبام ہونے کا امکان ہے یہ اتنی بڑی غلطیاں ہیں کہ پایہ تخت کے قریب واقع مرگلہ کی پہاڑیاں بھی چیخ چیخ کر اس کی گواہی دیں گی۔
چونکہ یہ غلطیاں پوشیدہ ہیں اس لئے لوگ ایک بار پھر ن لیگ کو آزمانے کیلئے تیار ہیں جبکہ عالمی اور مقامی مقتدرہ کا خیال ہے کہ ایک اچھی ملی جلی سرکار کو مسائل کے حل کا موقع ملنا چاہئے باوثوق حلقے کہتے ہیں کہ تباہ کن اور انتہائی مشکل حالات میں صرف آصف علی زرداری کی شخصیت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ تمام قوتوں کو ساتھ لے کر چلے اور معاسی صورتحال کو 2013ء کی سطح پر لائے اس سے زیادہ بہتری کی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہے۔
بہر حال یہ بات طے ہے کہ جناب عمران خان کی سیاست اور اقتدار کی شام شروع ہو گئی ہے اور انہیں کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں