یونیورسٹی سے طلباء کو لاپتہ کیا جاتا ہے ,حکومت سیکورٹی فورسز سے پوچھ گچھ کرنے سے قاصر ہے،نیشنل پارٹی

نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے جاری بیان میں این دی ایم اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں پر بلوچستان میں پابندی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور سیاسی عمل سے خائف عناصر کیسے مثبت و تعمیری سماج کی تشکیل کو ممکن بنا سکے گے۔درحقیقت بلوچستان حکومت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے صوبے میں امن و امان بگڑتی جارہی ہے۔۔۔بلوچستان یونیورسٹی سے طلباء کو لاپتہ کیا جاتا ہے اور طلباء اپنے اکیڈمک ساتھیوں کی بازیابی کےلیے سراپا احتجاج ہے۔لیکن حکومت یونیورسٹی میں موجود سیکورٹی فورسز سے پوچھ گچھ کرنے سے قاصر ہے۔ ہرنائی میں مزدور قتل ہونا حکومتی ناقص کارکردگی اور بدامنی کی بھرپور نشاندھی کررہی ہے۔اور سیاسی رہنماؤں و عمل پر قدغن لگا کر اخبارات کی زینت بننے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے تمام ادارے ناقص کارکردگی و سیاسی مداخلت کی بنا پر مفلوج ہوگئے ہیں۔عوامی مسائل کی شنوائی کا عمل تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔عوام ایک طرف مہنگائی بیروزگاری گیس بجلی اور پانی کی قلت سے شدید مشکلات کا شکار ہے تو دوسری طرف سرکاری اداروں میں غفلت کوتاہی اور ناقص کارکردگی سے روز مرہ اذیت سے دوچار ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ملک میں اور بلوچستان میں جعلی مینڈیٹ سے اقتدار تک پہنچانے کی منفی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا اور عوام سے ان کے نمائندے منتخب کرنے کا حق چھیننا بند کرنا ہوگا۔تب ملک و بلوچستان کی تعمیر وترقی کو ممکن بناجاسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں