اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کا جامعہ کی بندش اور طلباء کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار
کوئٹہ:اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کا ایک ہنگامی اجلاس پروفیسر کلیم اللہ بڑیچ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں عبدالباقی جتک جنرل سیکرٹری، پروفیسر فرید خان اچکزئی، پروفیسر ظاہر مینگل، ڈاکٹر محیب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر سمیع اچکزئی، پروفیسر ارباب رضا، ڈاکٹر علی اکبر اور ڈاکٹر شریف حسنی نے شرکت کی اجلاس میں جامعہ بلوچستان کی موجودہ بندش کی صورتحال اور طلبا کی گمشدگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ گمشدہ طلبا کو فورا بازیاب کرکے منظر عام پر لایا جائے اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے آئین و قانون کے مطابق سزا دی جائے نہ کہ انہیں ماورائے عدالت اغوا کیا جائے اجلاس میں غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کی مجرمانہ خاموشی اور انتظامیہ کی بے حسی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ غیر قانونی طور پر مسلط وی سی، پرو وی سی اور رجسٹرار، ڈی۔جی ایڈمنسٹریشن، ڈی جی سٹوڈنٹس افیئر گمشدہ طلبا کی بازیابی کیلئے طلبا کے ساتھ ہوتے لیکن بدقسمتی سے انہیں جامعہ بلوچستان کے طلبا کی زندگیوں اور تعلیمی سال کی کوئی فکر نہیں بلکہ وہ اپنی کرسیوں کو بچانے اور یونیورسٹی کو تباہ کرنے کے درپہہ ہیں بیان میں مزید کہا گیا ہے نااہل وی سی کی بد انتظامی کا حال یہ ہے کہ جامعہ بلوچستان گزشتہ 22 روز سے بند ہے اور طلبا دھرنے پہ ہے جبکہ موصوف سکون فرمارہے ہیں اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس سے صوبے میں اعلی تعلیمی اداروں پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے اور والدین اپنے بچوں کو علم دلانے سے کترا رہے ہیں جس سے ملک کی مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے اے ایس اے کور کمانڈر، چیف جسٹس آف بلوچستان، وزیر اعلی بلوچستان، گورنر بلوچستان اور صوبائی حکومت سے سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی جلد بازیابی میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ جامعہ بلوچستان میں بالخصوص اور دوسرے تعلیمی اداروں میں بالعموم درس و تدریس کا عمل پھر سے شروع ہو جائے اے ایس اے کی کابینہ نے کہا کہ موجودہ وی سی کے دور میں جامعہ بلوچستان کے تمام کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں عدالت کے واضح احکامات کے باوجود سنڈیکیٹ اور دوسرے آئینی اداروں کے اجلاس نہ بلانا وی سی اور انتظامیہ کی جامعہ کو علمی طور پر برباد کرنے کی ایک مزموم کوشش ہے جسکی اے ایس اے کسی صورت اجازت نہیں دیگی حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی کے بیشتر ڈیپارٹمنٹس میں مستقل اساتذہ نہیں ہیں اور پورییونیورسٹیکو ایڈہاکزم اور پسندو ناپسندکی بنیادپرچلایاجارہاہے اجلاس میں چانسلر جامعہ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کو برطرف کر کے علم و صوبہ دوست پروفیسر کو وائس چانسلر متعین کرکے جامعہ کو مزید تباہی سے بچا یا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پلیٹ فارم سے اس حوالے سے عملی قدم اٹھا یا جائے گا۔ اجلاس کے بعد اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی کابینہ نے طلبا کے دھرنے میں شرکت کرکے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔


