مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو سی پیک روٹ کو بند کردینگے،ہدایت الرحمن

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گوادر میں جاری دھرنا نواں روز میں داخل ہو چکا ہے جبکہ گوادر حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے حکومت کو 3دن کی الٹی میٹم دے دی ہے جس کے بعد انہوں نے پورے سی پیک پر کام بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج حکومتی وفد نے صوبائی وزراء ظہور بلیدی، احسان شاہ اور لالا رشید بلوچ کی سربراہی میں دھرنے میں جاکر مذاکرات کیے ہیں۔ جہاں مولانا ہدایت الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا صوبائی اور وفاقی حکومت کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ گوادر شہر کے اندر ایف سی چیک پوسٹوں کا خاتمہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر پر جو بھتہ وصول کیا جا رہا ہے کیا یہ قومی خزانہ میں جا رہا ہے یا اہلکاروں کے جیبوں میں جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز رکشے ڈرائیورز تک کو نہیں چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ کیا صوبائی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ گوادر کے حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ کا خاتمہ کر سکیں کیا صوبائی حکومت کے پاس اختیارات ہے کہ ہماری لوگوں کے آنسو پونچھ سکیں انہوں نے کہا کہ میں خود ایک ماہی گیر کا بیٹا ہوں میرے والد آنسوؤں کے ساتھ دنیا سے کوچ کر گئے میرے بھائی ماہی گیر ہیں جن کے گھر میں جولہا نہیں جلتا۔کوئٹہ حق دو تحریک کے روح رواں وجماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہہ ہمارے مسائل حل نہ ہوئے حکمرانوں نے ہمارے مطالبات کی طرف توجہ نہیں دی تو سی پیک سٹی جانے والے تمام راستے بند کردیں گے اور اس کے بعدپوراصوبہ بند ہوگا حکمرانوں کوہمارے مسائل سے کوئی سروکار نہیں نودن دھرنے کوہوگئے لیکن وزراء منتخب نمائندوں اور وزیر اعلیٰ کے پاس وقت نہیں کہ مظلوم عوام کی فریاد سنے۔ہم خیرات نہیں حق مانگتے ہیں حکمرانوں کو ہر صورت ہمار ے مسائل حل کرنے ہوں گے بصورت دیگر ہمارا اگلا قدم اس سے بھی سخت ہوگا۔سمندر میں غیر قانونی ماہی گیری،ٹرالر مافیا کی لوٹ مار،ایران سے تجارت کرنے دیا جائے۔غیر قانونی چیک پوسٹیں فی الفور ختم کیے جائیں۔گوادر مکران کے مسائل کے حل تک دھرناجاری رہیگا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گوادر میں حق دو تحریک کے نویں دن دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیادھرنے میں خواتین بچے اور بزرگ سمیت نوجوان سیاسی ورکرز شریک ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت اگر ہمارے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہم حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کریں گے سی پیک سٹی کے عوام کے قسمت میں مسائل بے روزگاری پریشانی تذلیل کیوں لکھی گئی ہے۔ہم اپنے حقوق کے حصول مسائل کے حل کیلئے مہینوں لگ جائے تب بھی دھرنا ختم نہیں کریں گے دھرنے کوپورے مکران ڈویژن کے عوام ہر طبقے کی حمایت حاصل ہے۔بلوچستان میں حکومتی ظلم وجبر مہنگائی وبے روزگاری کی وجہ سے نظام زندگی جام ہوگئی ہے۔حکومتی سطح پر کوئی اہل فردسامنے نہیں لایا جاتاصرف چہرے تبدیل کرکے مفادات کے کھیل کھیلے جارہے ہیں۔گوادر کے مچھیروں،نوجوانوں،عوام الناس کے مسائل جماعت اسلامی اجاگر کررہی ہے گوادر کے سیاسی جماعتوں،نوجوانوں،قبائلی عمائدین کو دھرنے کی کامیابی کیلئے دن رات ایک کرنا چاہیے اگر اس بار دھرنا ناکام ہو اتو گوادر کے عوام وشہریوں کو کبھی بھی حقوق نہیں مل سکتے یہ بہت بہترین موقع ہے کہ حکمرانوں کو مجبور کیا جائے کہ گوادر مکران کے مظلوم عوام کو حقوق دیا جائے انشاء اللہ گوادر دھرنے کی کامیابی سے بلوچستان کے دیگر مظلوم علاقوں کی طرف سے بھی اس طرح کے دھرنے ہوں گے بلوچستان کے ہر ڈویژن سے حکمرانوں کی نااہلی ظلم وجبر اور بدعنوانی ولوٹ مارکے خلاف عوام کو میدان عمل میں نکلنا چاہیے تاکہ بے حس غافل حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدا رکیا جائے جماعت اسلامی مظلوموں کی حمایت اورظالم وظلم کے خلاف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں