کورونا وائرس سے 50کروڑ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم آکسفم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے 50 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔چیریٹی گروپ آکسفم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کورونا کی وبا کے منفی اثرات غریب ملکوں پر زیادہ محسوس ہوں گے۔ آکسفم کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں عالمی بینک کی جانب سے ایک اعشاریہ 90 ڈالر، 3 اعشاریہ 20 ڈالر اور 5 اعشاریہ 50 ڈالریومیہ کمانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ان تینوں درجات میں غربت کی شرح بڑھے گی اور آمدنی میں 20 فیصد کمی واقع ہوگی۔خیال رہے کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس نے اب تقریباً تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار سے زائد ہے۔اب تک اس کو قابو میں رکھنے کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دے رہے ہیں، جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے سائنسدانوں نے اس کی ویکسین کو تیار نہیں کیا ہے، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک یا دو سال بعد اس کی ویکسین تیار ہوگی جبکہ کچھ ماہرین اب تک اس پر حتمی رائے قائم کرنے سے گریزان ہیں۔ امیریکا اکثرو بیشر اس کا زمہ دار چین کو ٹھہرا رہا ہے البتہ ابھی تک ایسے کوئی آثار دیکھائی نہیں دیے ہیں جس سے یہ اخذ کیا جائے کہ اس وائرس کو بنانے اور پھیلانے میں چین کا کوئی واضح کردار ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا دعوع ہے کہ یہ وائرس جانور سے انسان میں پھیلا ہے لیکن یہ ابھی تک مکمل ثابت نہیں ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں