تربت، قدوس بزنجو کا114عارضی ٹیچرز کو مکمل بحال کرنے کا اعلان
تربت:وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ضلع کیچ کے عارضی بحال 114ٹیچرزآج سے مکمل بحال کرنے کا اعلان کرتاہوں،لیکن اب ڈیوٹی کا پابندی کریں تاکہ بچوں کا تعلیم ضائع نہ ہو۔یہ بات انہوں نے دورہ تربت کے موقع پر سرکٹ ہاؤس تربت میں منعقدہ تقریب کے دوران کہی۔اس سے قبل عارضی طورپر بحال ٹیچرز ایک وفد نے وزیراعلی بلوچستان کو اپنے بحالی کے حوالے سے درخواست دی جس میں کہاگیاہے کہ ضلع کیچ کے ہم 114ٹیچرزہیں جن میں سب زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ہمیں غیرحاضری کے جھوٹے الزام میں سابق سیکرٹری تعلیم (ثانوی)صاحب کے حکم پر آرڈرنمبر705-14بمورخہ 20.08.2019کے تحت برطرف کیا گیاتھا۔جبکہ گورنمنٹ سروس رولزکے تحت کسی ملازم کو برطرفی سے قبل تین شوکازنوٹس،انکوائری،اخبارمیں غیرحاضری کا اشتہارجاری کرنا ہوتاہے۔اس سروس رولز پر کوئی عملدرآمدنہیں کیا گیاہے۔سابق سیکرٹری تعلیم صاحب سے آرٹی ایس ایم کی رپورٹ پر 18جنوری 2019کو شوکا زنوٹس جاری کیا تھا۔شوکازنوٹس ہمیں تاخیر سے ملاتھا اسلئے ہم نے اپریل 2019کو ڈی ای او کیچ کے دفترمیں شوکازنوٹس کا جواب جمع کرایاتھا اورایک کاپی سیکرٹری صاحب کو ٹی سی ایس کرایا تھا۔لیکن صرف ایک ہی شوکازنوٹس جاری کرنے کے بعد معطل کیا گیا پھر20اگست 2019کو بغیردوسری شوکاز اورمحکمانہ انکوائری کے عجلت میں نوکری سے فارغ کیاگیاتھا۔ پھرسابق وزیراعلی کے حکم پر ڈپٹی کمشنرکیچ کی نگرانی میں انکوائری ہوا،دوسری بار سیکرٹری تعلیم محمدطیب لہڑی صاحب نے خودتربت آکر انکوائری کیا،ہم تمام ٹیچرز انکے سامنے پیش ہوکراپنی صفائی اورحاضری رپورٹس پیش کئے تھے۔تیسری بارسابق سیکرٹری تعلیم غلام علی بلوچ نے آن لائن انکوائری کیا۔ان تینوں انکوائریوں کے رپورٹ سامنے آئے نہ ہی ہمیں بحال کیاگیا۔اسلئے بھاگ دوڑ سے تنگ آکر کوئٹہ میں مجبورا احتجاجا تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کیا کہ تین انکوائریوں کے باوجود کیوں بحال نہیں کیاجارہاہے۔سابق وزیراعلی اورسابق وزیر تعلیم نے 18نومبر2020کوآرڈرنمبرNo. SO(Inq) 5-7 Edu 2019/705-14کے تحت ہمیں عارض طورپر بحال کرکے سی ایم آئی ٹی کو حکم دیا کہ ہم ٹیچرزکیخلاف چوتھی انکوائری کریں۔لیکن ایک سال گزرچکا ہے سی ایم آئی ٹی کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے نہ ہی ہمیں مکمل بحال کیا گیاہے۔ لیکن عارضی بحالی کے بعد پچھلے ایک سال سے ہم باقاعدگی سے اپنے اپنے اسکولوں میں جاکر پابندی سے پڑھا کر اپنے فرض منصبی سرانجام دے رہے ہیں۔چونکہ ہمیں سروس رولز تحت برطرف نہیں کیا گیا ہے،صرف آرٹی ایس ایم کی یکطرفہ رپورٹ پر ایک ہی شوکازنوٹس پر بغیر محکمانہ انکوائری کے فورا برطرف کیا گیاتھا۔ اسلئے برطرفی کے عمل کو غیرقانونی قراردیکر بغیرپیلنٹی (سزاوجزاء کے)ہمیں مکمل بحال کرنے حکم دیں اوربرطرفی کے دوران کے16مہینے کی سابقہ بند تنخواہیں جاری کرنے کا بھی احکامات صادرفرمائیں۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے عارضی طورپر بحال ضلع کیچ کے 114ٹیچرز کی وفد کویقین دلایاکہ آج سے ضلع کیچ کے 114ٹیچرز مکمل بحال کرنے کااعلان کرتاہوں۔


