کہیں ریکوڈک منصوبے کی خاطر جام کمال کو تبدیل تو نہیں کیا،اصغر اچکزئی
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وسائل کی تقسیم کا تنازعہ صوبوں کا اپنے وسائل پر اختیار کا تنازعہ قیام پاکستان سے ہی درپیش ہے جب ماضی میں ہمارے اکابرین صوبائی خود مختاری کی بات کرتے تھے تو ان پر الزامات لگائے جاتے تھے جب خان عبدالولی خان صوبائی خود مختاری کی بات کرتے تھے تو ان کی باتوں کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیا جاتا تھا لیکن آج تمام باتیں کھل کر سامنے آرہی ہیں خطے میں پاکستان کی اہمیت کی سب سے بڑی وجہ بلوچستان کے ساحل او روسائل ہیں اپنے وسائل سے ہم اپنے عوام کو خوشحالی دے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں جو کچھ ہوا اور حکومت کی تبدیلی کہیں ریکوڈک منصوبے کے لئے تو نہیں تھی؟ امید ہے کہ وزیراعلیٰ کم از کم اقتدار کے لئے بلوچستان کے عوام کے ساتھ کوئی ظلم او رناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔ معدنی وسائل کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کا حق اس ایوان کو حاصل ہے کہ اس ایوان سے صوبے کے وسائل کے حوالے سے فیصلے کئے جائیں اس کے لئے وفاق سے بات کی جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں یوں تو مختلف مکاتب فکر کے لوگ سراپا احتجاج رہتے ہیں مگر گزشتہ دنوں ہم نے کوئٹہ کے ایک جلسے میں خواتین کی اتنی بڑی تعداد دیکھی اگر نوجوانوں کے ساتھ خواتین بھی احتجاج میں شامل ہوجاتی ہیں تو پھر کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے لئے جہاں جہاں روزگار کے مواقع تھے گوادر سے لے کر چمن تک ان کو بند کیا جارہا ہے ریکوڈک پر کوئی بھی فیصلہ بلوچستان کے عوام کی مرضی کے برعکس نہ کیا جائے امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عوام کے مفاد میں فیصلہ کریں گے۔جمعیت علماء اسلام کے اصغر علی ترین نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سیندک کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جو سابق حکومت میں ساڑھے تین سال تک غیر فعال رہی انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں معدنیات ساحل اور وسائل بلوچستان حکومت کی صوابدید پر خرچ ہوتے تو یہ صوبہ ترقی اورخوشحالی میں باقی صوبوں سے آگے نہ سہی مگر کم از کم ان کے برابر ہوتا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے بغیر ریکوڈک کا معاہدہ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعت کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا حکومت کی مرضی کے بغیر یہ کیسے ہوسکتا ہے ہماری معلومات کے مطابق معاہدے پرنوے فیصد تک کام ہوچکا ہے سابق حکومت کی مرضی کے بغیریہ کیسے ممکن ہے۔ بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ سابق حکومت نے بنایا جو موجودہ حکومت کے علم میں ہے اس معاہدے کے خدوخال واضح کئے جائیں۔ جے ڈبلیو پی کے نوابزادہ گہرام بگٹی نے کہا کہ کہیں یہ معاہدہ ایسا تو نہیں جو ڈیرہ بگٹی کے عوام کے ساتھ ہوا۔ ڈیڑہ بگٹی سے 1952ء میں گیس دریافت ہوئی لیکن وہاں کے عوام آج بھی گیس سے محروم ہیں جو معاہدہ ہونے جارہا ہے اسے بلوچستان اسمبلی کے نمائندوں کے سامنے رکھا جائے۔بی این پی کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے کہا کہ یہ دن دیہاڑے ڈکیتی ہے جو بھی معاہدہ ہونے جارہا ہے اسے روک کر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔ جے یوآئی کے مکھی شام لعل نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ معاہدے کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ جے یوآئی کے عزیز اللہ آغانے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا کوئی بھی فرد صوبے کے وسائل پر آنکھیں بند نہیں کرسکتا صوبے کے ساحل اور وسائل کا تحفظ ہمارا ملی فریضہ ہے صوبے کے ایک فرزند کی حیثیت سے اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو اندھیرے میں رھک کر ان کے حقوق کو پامال کرنے کا دور گزر گیا ہے یہ بات سب ذہن نشین کریں کہ صوبے کے وسائل یہاں کے عوام کے ہیں انہیں عوام کی بہتری کے لئے بروئے کار لایا جائے کسی کو عوام کا استحصال کرنے نہیں دیں گے۔ بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ جس طرح سیندک کو کوڑیوں کے دام فروخت کیا گیا آج ریکوڈک کو بھی فروخت کیا جارہا ہے صوبوں کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہونا چاہئے ریکوڈک اور سیندک سمیت جتنے بھی معدنی وسائل اور ساحلی پٹی ہے یہ بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے اور اس پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے اس ضمن میں وفاق سے دوٹوک بات کی جائے۔ بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی جس کے بعد قائمقام سپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعہ تین دسمبر کی سہ پہر تک ملتوی کردیا۔


