ہمیں بحیثیت قوم پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، مولانا کمال الدین
پشین: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سینئر نائب امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا کمال الدین نے کہا ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم پولیو جیسی موذی مرض کے خاتمے میں اپنا کردار آدا کرتے ہوئے اپنے بچوں کو اس خطرناک مرض سے نجات دلانی ہوگی۔ اگر ہم نے اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل پشین کے مختلف قبائیلی رہنماوں اور معتبرین کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کی صدارت ڈپٹی کمشنر پشین ظفرعلی نے کی جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سابق ڈسٹرکٹ چیئرمین محمدعیسی روشان، عبدالحق ابدال، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء عبیداللہ عابد، ملک بہادرخان ترین، دولت خان ترین، ملک عزیزخان کاکڑ، نصیب اللہ کلیوال اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں تحصیل پشین کے مختلف یونین کونسلوں کے قبائیلی عمائدین اور معتبرین نے شرکت کی۔مقررین نے عوام کے منتخب نمائندوں، قبائیلی عمائدین اور علاقے کے معتبرین پر زوردیا ہے کہ وہ پولیو جیسی خطرناک اور متعدی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے میدان میں آکر آپنی آئندہ نسلوں کو اس موذی مرض سے نجات دلائیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور قبائیلی عمائدین کا ہمارے معاشرے میں مسلمہ کردار ہے، جو معاشرے کی بہترین رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ معاشرے کیلئے ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جن کی کوششوں سے معاشرے کو صحیح سمت رہنمائی مل سکتی ہے، صحت جیسے بنیادی مسلہ میں سیاسی اور مذہبی رہنماوں کا انتہائی اہم کردار ہے، انہوں نے کہا کہ پشین سمیت افغانستان کے ساتھ متصل اضلاع میں پولیو کی بیماری کے خطرناک وائرس کے باعث ھمارے بچوں کی زندگیاں داو پر لگی ھوئی ہے، طویل بارڈر اور دونوں ممالک سے لوگوں کی آمدورفت بھی اس خطرناک وائرس کے پھیلاو کا اہم وجہ ہے، انہوں نے کہا کہ کہ تین عشرے قبل دنیا میں ساڑھے تین لاکھ بچے پولیو سے متاثر تھے، جس پر دنیا بھر میں اس متعدی مرض کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم کا آغاز کرکے ھر سطح پر اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے اقدامات کا آغاز کیا گیا، انہی اقدامات کی بدولت اب دنیا میں رواں سال کے اختتام پر صرف چند کیسیز رہ گئے ہیں، جو بھی صرف پاکستان اور افغانستان میں پائے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہا کہ تمام دنیا سے اس مرض کا خاتمہ ھوچکا ہے صرف پاکستان اور افغانستان میں تاحال پولیو کے جراثیم موجود ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہمیں پولیوزدہ ملک تصور کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے خطرناک بیماری سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ھوں گے، اس مہلک اور خطرناک مرض سے نجات کیلئے قبائیلی رہنماوں سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور معاشرے کے ھر باشعور فرد کو آپنا کردار ادا کرتے ہوئے ذمہ داری نبھانی ھوگی۔انہوں نے کہا کہا کہ ہمیں معاشرے میں ہر قسم کی بیماریوں سے نجات کیلئے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنی چاہیے بالخصوص عوام کے منتخب رہنماوں اور قبائیلی معتبرین اس متعدی مرض سے نجات کیلئے اپنا فعال اور موثر رول ادا کرسکتے ہیں۔


