بدقسمتی سے بلوچستان کو انسانی حقوق کے علمبردار نہیں دیکھتے، بی ایس او
کوہلو:بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے انفارمیشن سیکرٹری بالاچ قادر بلوچ، سینٹرل کمیٹی ممبر ڈاکٹر مقبول بلوچ، کریم شمبے بی این پی کے ضلعی صدر ملک گامن خان مری نے ایک برحجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا دن منایا جارہا ہے تعلیم صحت بجلی پانی بھی ان انسان حقوق کے زمرے میں آتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے بلوچستان کو دیکھا جائے تو عوام کو تعلیم جیسے بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے باقی بلوچستان کی طرح کوہلو کو بھی تعلیمی پسماندگی ہے حکومت بلوچستان نے سرد علاقوں کی چھٹیوں کا اعلان کیا لیکن کوہلو کالج کو کیوں وقت سے پہلے کیوں بند کیا گیا ہے اور کمروں کو سیل کردیا گیا ہے آرٹیکل 125Aکے تحت ہر پاکستانی کا حق ہے یہاں حکومت نے صرف تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر بلڈنگیں کھڑی کر دیے گئے لیکن تعلیمی پالیسی نہیں بنایا گیا اس وقت بلوچستان کے 80فیصد تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں اس طرح کے ایمرجنسی سے صرف سٹوڈنٹس کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ کوہلو کے باسیوں کے لیے نقصان ہے ہم اس پریس کانفرنس کے توصیف سے سیکرٹری ایجوکیشن اور صوبائی وزیر تعلیم جس کا تعلق بھی ضلع کوہلو سے ہے پوچھنا چاہیں گے کہ کس نوٹیفکیشن کے ذریعے کوہلو کے ڈگری کالج کو پانچ دن پہلے بند کیا گیا ہے بات یہاں تک پہنچ گیا کہ کوہلو ڈگری کالج میں بارہ لیکچرار تعینات ہیں لیکن تین چار ڈیوٹی دیتے ہیں اور باقی چھٹی پے چلے جاتے ہیں جب پہلے والے چلے جاتے ہیں تو دوسرے آتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ کوہلو ڈسٹرکٹ باقی بلوچستان سے علیحدہ ہے یہاں ادارے ہیں نظام کے تحت چلتے ہیں یا کوہلو کے الگ قانون ہے حکومت فوری نوٹس لیں کئی ایک اور نسل ان پڑھ پیدا ہوں۔


