بلوچستان شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، سبی، جعفر آباد، جھل مگسی میں پارہ 52 ڈگری ریکارڈ، محکمہ موسمیات کا ہائی الرٹ جاری
کوئٹہ (یو این اے) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جہاں سورج آگ برسا رہا ہے اور دوپہر کے اوقات میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے حکومت بلوچستان اور پی ڈی ایم اے کو ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چار سے پانچ روز کے دوران درجہ حرارت میں مزید 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا امکان ہے، جس سے ہیٹ ویو کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کے روز کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صوبے کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ سبی اور جعفر آباد میں پارہ 51 ڈگری سینٹی گریڈ، جھل مگسی میں 52 ڈگری سینٹی گریڈ، لسبیلہ میں 50، تربت میں 48، دالبندین میں 46، نوکنڈی میں 42 اور تفتان میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔شدید گرمی کے باعث بازار، شاہراہیں اور عوامی مقامات سنسان دکھائی دینے لگے ہیں، جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹریفک پولیس اہلکار، تعمیراتی کارکن اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرم اور خشک ہواں کے باعث گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ محسوس ہوگی، جبکہ میدانی اضلاع میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات استعمال کریں، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں، جبکہ ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔دوسری جانب شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ اور کئی علاقوں میں پانی کی قلت کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ زرعی ماہرین نے کسانوں کو فصلوں اور باغات کی بروقت آبپاشی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ شدید گرمی سے فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔محکمہ موسمیات نے حکومت بلوچستان، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ ہیٹ ویو کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کیے جائیں، اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز فعال رکھے جائیں، صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اہم شاہراہوں، بس اڈوں اور عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی اور ابتدائی طبی امداد کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو شدید گرمی کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


