گوادر میں لاکھوں افراد سمندر کو بھی جو ش دلانے میں کامیا ب ہوئے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گوادر و مکران کے غیور عوام نے اپنے اتحاد و اتفاق کے زریئعیایک مہینے کا صبر آزما دھرنا دیکر اور پھر خواتین و بچوں کا سحر انگیز انداز و بڑی تعداد میں مردوں کی پشت پر مشکل کی وقت میں کھڑی ہوکر مورچہ زن ہونا پاکستان کی تاریخ کے گم گشتہ اوراق کا حصہ ہونے کے علاوہ اپنی تحریک کے مقاصد سے والہانہ عقیدت کا مظہر ہے اسی طرح کل گوادر شہر میں جمعہ کے روز ٹھاٹھیں مارتا ہوا عوام کا سمندر لاکھوں کی تعداد میں شرکت سمندر کے کنارے سمندر کو بھی جوش دلانے میں کامیاب ہوا ریلی نے اپنی طاقت کا ولولہ انگیز مظاہرہ کرکے غرور و غروب ہونے والی قوتوں کو دندان شکن پیغام دیا ہے اب وقت آگیا ہے ملک بھر کے عوام گوادر و مکران کے عوام کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں ملک بھر میں اظہار یکجہتی کے اظہار کی اپیل پر برملا اعلان کے ساتھ اس تحریک کی چنگاری کو لاوا بناکر ریاست کے اوپر ریاست کا خاتمہ کا آغاز کریں اس ملک پر عوام کے راج کی راہ ہموار کریں ترکی و سوڈان و نیپال کے کمزور عوام ہی سہی طاقت کے سامنے کھڑا ہوکر چیلنج کرنے کا فیصلہ تہیہ کرکے کمربست ہوں پرامن مزاحمت کے لئے کھڑے ہوجائیں سیاستدان اپنی مصلحتوں و وقتی مفادات سے ہٹ کر قوم و ملک کی بقا کے لئے کمر بستہ ہوکر اسٹبلشمنٹ کی مداخلت و عدلیہ کی غفلت و انتظامیہ کی کمزوری کے نتیجے میں قوموں کے درمیان عدم مساوات و آئینی و بنیادی حقوق کی پامالی نے انسانی المیہ کو جنم دیا ہے جس کی علامت گوادر و مکران کے عوام کے جائز و آسان مطالبات پر حکومت کی عدم توجہی سرد مہری سے ان کی غیر سنجیدگی جھلکتی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے شیخ مجیب الرحمن کے چھے نکات میں 5.5 نکات مان کر آدھے نکتے پر ھٹ دھرمی کے نتیجے میں پاکستان کی بقا فنا میں بدل گیا پاکستان کا بڑا حصہ ہم سے الگ ہوکر رہ گیا اگرچہ آج اس تحریک کی قیادت پرامن و آئین و قانون کی عملداری پر یقین رکھنے والے مولانا ھدایت الرحمن صاحب کے ھاتھوں میں ہے اب بھی معاملات سلجھ سکتے ہیں مگر جس طرح نواب بگٹی شہید کے معاملہ کو الجھا کر پاکستان کو ایسا گھاو لگایا جو آج تک ریاست پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی وہ زخم نہ صرف مند مل نہ کرسکی بلکہ اس گھاو نے ریاست کو ہی مضمحل کردیا ہے اس وقت ناعاقبت اندیشوں کی جانب سے نواب بگٹی شہید کے معاملہ کو ڈیرہ بگٹی کے ایک تحصیل کا مسئلہ سمجھا گیا تھاآج اس کو بھی صرف گوادر ضلع کا مسئلہ گردان کر بے رخی و بے اعتناء برتی جارہی ہے اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور اس تحریک کا رخ کسی اور طرف بھی موڑا جاسکتا ہے اس سے قبل کہ دیر ہوجائے ہوش کے ناخن لئے جائیں ان کے مطالبات غیر مشروط طور پرتسلیم کئے جائیں عوام کے تمام طبقات اس جائز تحریک کی پزیرائی کریں اور کل 12 دسمبر کو یکجہتی کے اظہار کے لئے باہر نکل آئیں


