ایچ آر سی پی کے اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد
تربت: ایچ آر سی پی ٹاسک فورس مکران کی جانب تربت میں انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیاگیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ آر سی پی ٹاسک فورس مکران ریجن کے کوآرڈینیٹر پروفیسر غنی پرواز نے انسانی حقوق لے عالمی دن کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس دن کومنانے کا آغاز 10دسمبر 1948ء سے اقوام متحدہ کی جانب کیاگیا، انہوں نے کہاکہ انسانوں میں جب مختلف طبقات نے جنم لینا شروع کردیا تو ریاستیں جنم لینا شروع ہوگئیں، جبکہ ریاستوں میں آقا اور غلامی کے تصور نے بھی جنم لیا اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کو اپنے حقوق کا ادراک ہوا، اسپارٹیکس کی سربراہی میں قبل مسیح 7ہزار کے قریب غلاموں نے اپنی حقوق کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا،اٹھارویوں صدی میں فرانسیسی انقلاب کے دوران انسانی حقوق کی جدوجہد میں تیزی آناشروع ہوگیا اور لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعور آما شروع ہوگیا، 1946ء میں اقوام متحدہ نے ایک ایک کمیٹی تشکیل دے جس نے انسانی حقوق کے حوالے سے سفارشات مرتب کیے انہوں نے 1947ء میں اپنے نگارشات مرتب کرلیے اور اقوام متحدہ کوپیش کیے انکے مرتب کردہ نگارشات کی بنیادپر اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کاتعین کرلیا، اور معاشرکیا۔ کمزور طبقات کے حقوق بھی مرتب کیے گئے۔ تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وسنیٹر اکرم دشتی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بنیادی طورپر ریاستوں کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کاتحفظ کریں، عوام کے روزگار اور زریعہ معاش، تعلیم، صحت اور مال وجان کو تحفظ فراہم کرنا ریاستوں کی زمہ داری ہے مگر بدقسمتی سے بعض ریاستیں خود غاصب بن چکی ہیں، اور حقوق مانگنے کی پاداش میں لوگوں کو خاموش کرانے کیلئے طاقت اور جبر سے کام لے رہے ہیں، جب لوگوں کے حقوق سلب کیے جائیں تو لوگوں کو بزور طاقت خاموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہاکہ آج بلوچ قومی زبان ہو یا ثقافت مختلف طریقوں سے پامال ہیں، بلوچستان میں بولنے کی آزادی نہیں، لوگوں جبری طورپر لاپتہ کیا جاتاہے اگر کسی نے کوئی جرم کیاہے اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے مگر بدقسمتی سے انہیں عدالتوں میں بھی پیش نہیں کیا جاتا، انہوں نے کہاکہ پاکستان پر ایک اشرافیہ کا قبضہ ہے اور قرضہ لیکر اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا جاتاہے، انکا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم نے ایک حدتک صوبوں کو حقوق دیئے ہیں اب صوبوں کہ زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وفاق سے اپنے حقوق لیں، انہوں نے کہاکہ آج ہمارے بعض ہمسائے جن پر ہم ایک وقت ایساتھا کہ ان پر طنز کیا کرتے تھے آج انکی حالت ہم سے بہترہے اور ہماری حالت دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس موقع ایچ آرسی پی کے رکن محمدکریم، بشیر کسانوی، بشیر دانش،نوجوان قلمکاروں شگراللہ یوسف، الطاف بلوچ، یلان زامرانی، شریف شمبیزئی، ڈاکٹرسمی پرواز، شہناز شبیر، وسیم بلوچ ودیگر نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے میں انسانی حقوق کے حوالے سے آگہی پھیلائیں اور اس دن کو مزید بہتر انداز میں منائیں تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر ہوسکے، انکا کہناتھاکہ دین اسلام نے بھی انسانوں کے حقوق بہتر اندازمیں اجاگر کییہیں مگر بدقسمتی سے آج دین اسلام کو مفادات کی خاطر ڈھال بنایا گیا ہے اور بطور ہتھیار مذھب کو استعمال کیا جارہاہے جس سے اسلام کی اصل روح لوگوں سے اوجھل ہے اور اسلام کی اصل تعلیمات لوگوں تک نہیں پہنچ رہاہے، بعض گروہ اور بعض ریاستیں اسلام کو مفادات کیلئے غلط استعمال کرکے انسانی حقوق کو پامال کررہے ہیں۔ پروگرام میں نیشنل پارٹی کیچ کے سابقہ صدر محمدجان دشتی، جمال پیرمحمد، حمیدبلوچ، نوجوان شاعر علی چراگ، اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کیا۔جبکہ آخر میں قرار داد پیش کیاگیا جہاں مطالبہ کیاگیاکہ مکران میں بیروزگاروں کو روزگار فراہم کیاجائے اور روزگار کے زرائع پیدا کیے جائیں، قرار داد کے زریعے بلوچ متحدہ محاذکے سربراہ میر یوسف مستی خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انکی رہائی کامطالبہ اور مقدمات واپس لینے کامطالبہ کیاگیا۔


