ملک پر مسلط غلامانہ پالیسیوں کی تسلسل سے ملک صدیوں پیچھے اور تباہی کی طرف جارہی ہیں، مولانا عبدالقادر لونی
کوئٹہ:جمعیت علما اسلام(نظریاتی)پاکستان کے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کا پہلا سیشن مرکزی سینئر نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی کے صدارت میں منعقد ہوا اور مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین نے ایجنڈے پیش کی اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی حالات اور جماعت کی استحکام اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے اور جماعتی پالیسیوں اور دستوری ترامیم کے حوالے سے تفصیلی غور خوض ہوئی پہلا سیشن فیصلوں کرنے کے بغیر اختتام کو پہنچی جو آج دوسرے سیشن میں فیصلے ہوگی اجلاس کے اختتام پرمرکزی سنئیر نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین صوبائی امیر خیبر پختونخوا قاضی گل الرحمن نکیال شیخ الحدیث مولانا محمد طیب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمااسلام نظریاتی کا اقتدار اور مفادات کا حصول کبھی ہدف نہیں رہا ہمیشہ اصولی سیاست کی آج پوری قوم کی نظریں جمعیت علما اسلام نظریاتی پر جمی ہوئی ہے ملک کی اسلامی ونظریاتی تشخص کی حفاظت اور قومی وحدت کے لیے ملک کی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں جمعی کی اولین اساس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ ہی کے لیے جدوجہد ہے روز اول سے اساس پر اپنا فکری اور سیاسی اور نظریاتی کام کررہی ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام نظریاتی کا سیاست میں حصہ لینا ان کے ملی و دینی فریضہ کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اسلاف و اکابر کی شاندار روایات کا اہم حصہ اور ان کا ورثہ بھی ہے اللہ کی زمین پراللہ کا نظام لانے کیلئے عملی جدوجہد کر رہی ہے۔ اورہمیشہ مظلوموں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور جماعتی اصولوں پر کھبی سمجھوتہ نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کی طرح اپنے عمل سے اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا ہوگا آج ہمارے مسائل و مشکلات کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ملک کیاجتماعی اور مملکتی نظام پر سیکولر قوتیں قابض ہے اور مغربی نظام ہم پر مسلط ہورہی ہے جس کا ہدف اسلام اور مسلمان ہیں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لیا جائے سماجی خدمات کے لیے بلدیاتی انتخابات اہم ہے بلدیاتی نظام کی ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے نظام میں بہتری و اصلاحات لانے کی ضرورت ہے بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی سے مقامی سطح پر انقلاب لایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط غلامانہ پالیسیوں کی تسلسل سے ملک صدیوں پیچھے اور تباہی کے طرف جارہی ہیں ملک ہرلحاظ سے عدم استحکام، معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے آزادنہ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینی حدود جمہوری نظام کا بنیادی تصور ہے آئین پر من و عن عملدرآمد معاشرے میں امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے اور انتشار، بے یقینی سے بچاتا ہے۔ آئین سے روگردانی اور اس کی خلاف ورزی ریاست سے دشمنی تصور ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک و معاشرے کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرسودہ نظام ہے سیاسی اور معاشی بحران سے نجات کا واحد راستہ انقلاب ہے قوم ملک میں انقلاب کے لیے ہمارے ساتھ دئیے۔


