افغانستان میں موجود داعش پاکستانیوں اور افغانوں دونوں پر حملے کررہی ہے،امریکا

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہاہے کہ افغانستان میں موجود داعش خراسان نامی گروپ افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کرتا ہے، جو بنیادی طور پر تحریک طالبان پاکستان، افغان طالبان اور اسلامک موومنٹ ازبکستان کے سابقہ اراکین پر مشتمل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات دہشت گردی سے متعلق ایک امریکی رپورٹ میں کہی گئی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سالانہ رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ افغانستان سے کارروائیاں کرنے والی داعش خراسان میں اب بھی تقریبا ایک ہزار جنگجو شامل ہیں۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کو کچھ فنڈنگ اپنی بنیادی تنظیم داعش سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ بقیہ غیر قانونی مجرمانہ تجارت اور بھتہ خوری سے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔امریکی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ گروپ نے افغان فورسز اور عوام کے خلاف خود کش بم دھماکے، چھوٹے مسلح حملے اور اغوا کی کارروائیں کیں۔اس کے علاوہ گروپ نے پاکستان کے اندر حکومتی عہدیداروں اور شہریوں پر کیے گئے حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی۔امریکی رپورٹ میں داعش خراسان کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان میں فرق نہیں کرتا اور دونوں ممالک میں باقاعدگی سے شہریوں، مسلح افواج کے اراکین حتی کے اسکولوں اور عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں