قوم پرست جب اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں سیندک، سی پیک اور ریکوڈک نظر نہیں آتے، عبدالکریم نوشیروانی

کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ صوبے کے قوم پرست جب بر سراقتدار آتے ہیں تو انہیں بلوچستان کے ساحل ووسائل سیندک و ریکوڈک پراجیکٹس اور سی پیک نظر نہیں آتے اور جب وہ اقتدار سے ہٹ جائیں تو انہیں سب کچھ یاد آجاتا ہے اور پھر وہ جواز ڈھونڈتے ہیں کہ کہاں اٹیک کریں۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ صوبے سے جتنے بھی قوم پرست لیڈر ہیں وہ ماضی میں وزیراعلی اور وزیر رہے پاور میں ہوتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں پاور سے ہٹتے ہیں تو انہیں صوبے کے حقوق سمیت سب کچھ یاد آنا شروع ہو جاتا ہے جس سے انکی اس ملک اور صوبے کے عوام کے ساتھ مخلصی ظاہر ہوتی ہے انہوں نے مزید کہاکہ بلوچستان آج بھی 1947کے نقشے میں گھوم رہا ہے تعلیم، صحت، روڈ سیکٹر ہو یا واٹر سپلائی کے معاملات ہوں بلوچستان میں ان شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس سے پسماندگی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے ذمہ دار یہی قوم پرست ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبے کی ترقی و خوشحالی اور عوامی مفادات کے بجائے کرسی اور مراعات کو اہمیت دی ہم کرسی اور مراعات کے پجاری ہیں حالانکہ بلوچستان کو اللہ تعالی نے معدنیات سے مالا مال کیا ہے لیکن ہم اس ملک و صوبے کے ساتھ مخلص نہیں انہوں نے کہاکہ ماضی میں ان ہی قوم پرستوں نے تھال میں کھایا اب ان کا پلیٹ میں گزارا نہیں ہورہا تو انہوں نے سیندک و ریکوڈک پراجیکٹس کو جواز بنا کر شور شرابہ شروع کیا ہے اور قدوس بزنجو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت ملک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا جو ایشو ہے اور پاکستان اربوں ڈالر کے قرضے تلے دبا ہوا ہے اس پر دبا ہے وہ یہ قرضہ ادا کرے لیکن ہمارے قوم پرست ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر تنقید پر لگے ہوئے ہیں میرا ان کو مشورہ ہے کہ وہ ہر مسئلے پر تنقید کریں اسی طرح ہماری اپوزیشن کی بھی صورتحال مختلف نہیں وہ ایک طرف میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کی حمایت کررہی ہے اور دوسری طرف عوام کو بے وقوف بنا کر ریکوڈک پر بلا جواز تنقید کرکے سیاسی سکور میں لگی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ صوبے کے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں اور وزیراعلی قدوس بزنجو سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے میں میرا اپوزیشن جماعتوں کو یہ مشورہ ہے کہ خدارا وہ اس ملک صوبے اور یہاں کے عوام کے بہتر مفاد میں مثبت سوچیں تنقید برائے تنقید کی سیاست چھوڑ کر تعمیری تنقید کریں جو ملک و صوبے اور یہاں کے عوام کے بہتر مفاد می ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں