ایرانی پاسداران انقلاب کا عراق میں عین الاسد بیس کو نشانہ بنا نے کا اعتراف

تہران:ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی تنگسیری نے عراقی صوبے الانبار میں عین الاسد کے اڈے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ اس اڈے پر امریکی مشیر بھی موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ عین الاسد اڈے کو نشانہ بنانا ہمارے ردعمل کے نمونوں میں سے ایک ہے۔ساتھ ہی انہوں نے خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔سال 2020 کے موسم گرما سے لے کر اب تک تقریبا 2500 امریکی فوجی اور ایک ہزار اتحادی افواج عراقی افواج کو مشورے اور تربیت فراہم کرنے کے لیے عراقی سرزمین پر موجود ہیں جب کہ 2014 میں عراق میں تعینات کیے گئے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے روڈ میپ پر کام شروع کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں