حکمران نو بلوچ نو پرابلم کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ثناء بلوچ

گوادر :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور ایم پی اے ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ حکمران نو بلوچ نو پرابلم کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں انہوں نے کہا گوادر کی ترقی زمینی حقائق کے الٹ ہیں،ڈھائی ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود گوادر پانی میں ڈوب گیا انہوں نے کہا بی این پی ساحل وسائل کی نگہبان جماعت ہے۔ ہمارے نزدیک قدوس بزنجو یا اور کوئی مقدس گائے نہیں۔ جام حکومت کی تبدیلی میں کلیدی کردار اداکیا ہے۔ اصولوں پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرینگے ریکودیک کا مقدمہ سابقہ حکومتوں نے مس ہینڈل کیا ہے۔ جام حکومت نے معاملات خفیہ رکھے ان کیمرہ اسمبلی اجلاس کے حوالے سے بی این پی کے بھی تحفظات ہیں۔گوادر کی ترقی کے حوالے سے بڑا شورمچایا گیا ہے لیکن گوادر کی مقامی آبادی میں پسماندگی، محرومی، مایوسی اور بے روزگاری کے اثرات نمایاں ہیں 15 اور 20 سالوں کے دوران جو معاشی بدحالی یہاں آئی ہے وہ پہلے نہیں تھی۔ جفاکش ماہی گیروں کو اپنے آبائی روزگار کے چھن جانے کا فکر دامن گیر ہے ماہی گیروں اور کو شکار پر جانے کے لئے ٹوکن سسٹم نافذ کیا گیا ہے، سمندر ماہی گیروں کے روزگار کا اہم وسیلہ ہے ٹوکن سسٹم نافذ کرکے ان کو روزگار کی اجازت دی جاتی ہے یہ دہرا معیار ہے بلوچستان میں ماہی گیروں اور بارڈر پر کام کرنے والے بلوچوں پر ٹوکن کی شرط عائد کرنا مذموم عزائم کا آئینہ دار ہے حکمرانوں نے نو بلوچ نو پرابلم کی پالیسی اختیار کی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کے گرد گھیرا تنگ کرکے ان کو ان کی سرزمین سے جبری انخلا پر مجبور کیا جائے گا لیکن بلوچ اپنی سرزمین کبھی بھی نہیں چھوڑے گا ایکسپریس وے کے منصوبے میں ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بی این پی نے بھر پور جدو جہد کی اور سردار اخترجان مینگل نے قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا جس کے بعد ماہی گیروں کو سمندر تک رسائی کے لئے بر پی نے بہت پہلے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا بدقسمتی سے سی پیک کے معاہدوں پر ہمارے کچھ قوم پرستوں نے خاموشی سے دستخط کئے ہمارا مطالبہ ہے کہ گوادر بندرگاہ کی آمدنی کا 25 فیصد حصہ گوادر پر خرچ ہونا چاہیئے اور گوادر بندرگاہ کو صوبے کے دسترس میں دیا جائے۔ ریکودیک بلوچستان اور بلوچ عوام کا قومی اثاثہ ہے بی این پی ریکودیک کے معاہدے کو خفیہ رکھنے کی اجازت نہیں دے گی بی این پی کو بھی اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس پر تحفظات ہیں ان کیمرہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عالمی عدالت میں عائد جرمانے اور بیرون عدالت کمپنیوں کے ساتھ سٹلمنٹ کے امور وغیرہ زیر بحث لائے گئے ہیں اور ممکنہ سٹلمنٹ کی صورت میں ریکودیک کی آمدنی میں سے 25 فیصد بلوچستان اور 25 فیصد وفاق کو دینے کے حوالے سے بات ہوئی ہے لیکن بی این پی بلوچستان کو پچاس فیصد حصے دینے کے موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ سے ریکودیک کے معاہدات پر خدشات کا اظہار کیا ہے اور اسے بے دردی سے لوٹنے کی مزاحمت بھی کی ہے افسوس سابقہ حکومتوں نے اسے مس ہینڈل کیا اور جام کمال حکومت نے ریکودیک منصوبے کے معاملات خفیہ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہے البتہ ہم نے جام حکومت کی تبدیلی کے لئے کلیدی کردار اداکیا کیونکہ جام حکومت قومی بوجھ تھا اور اس کی پالیسیاں بلوچستان کے عوام کے مفاد میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ قدوس بزنجو ہو یا اور کوئی بھی ادارہ ہمارے لئے کوئی مقدس گائے نہیں ہے ہمارے لئے مقدس بلوچستان کی سرزمین ہے جب بھی قدوس بزنجو بلوچستان کے مفادات کے خلاف کام کرے گا بی این پی آواز اٹھائے گی گوادر میں جو تحریک چلی تھی اور لوگوں نے جس رد عمل کا مظاہرہ کیا تھا وہ زیادتیوں کے خلاف تھا اور بی این پی ہمیشہ سے ہی ایسی زیادتیوں کے خلاف برسرپیکار رہی ہے اور اب بھی برسرپیکار ہے یہ ہماری جدو جہد کا تسلسل ہے اور یہ اس عوامی شعور کی غمازی کرتی ہے جو بی این پی نے عوام کو دیا ہے لیکن تحریک کے دوران آگے چل کر سیاسی جماعتوں پر جو تنقید کی گئی اس سے تحریک مشکوک ہوگئی بی این پی اپنے اصولوں پر اب بھی قائم ہے ہم معمولی مراعات پر بلوچستان کا سودا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ 18 جنوری کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ریکودیک کے مسئلہ پر قرارداد پیش کرینگے بی این پی ساحل و وسائل کی تحفظ کا ضامن ہے ہم نے بلوچستان کے حقوق کی جنگ میں صعوبتیں برداشت کئے اور جیلیں بھی کاٹے لیکن اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی ماہی گیروں کے سمندر پر شکار اور بارڈر پر کاروبار کے لئے ٹوکن سسٹم اور سیکورٹی کے نام پر عزت نفس کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ وفاق کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ گوادر یا بلوچستان کے عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لے۔ بی این پی مسائل کے حل کے لئے سیاسی بصیرت پر گامزن ہے لیکن جب عوام کے اندر لاوا پٹھے گا تو حکمرانوں کو سوچنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔ اس موقع پر بی این پی کے مرکزی رہنما حاجی عبدالباسط، ڈاکٹر قدوس، تحصیل صدر نور گھنہ، جنرل سیکریٹری ناصر موسی، ضلعی رہنما خداداد واجو اور دیگر بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں