ڈیرہ اللہ یار، شہر اور شاہراہوں پر ڈاکوؤں کا راج، انتظامیہ خاموش
ڈیرہ اللہ یار:نوتال سے سبی تک قومی شاہراہ غیرمحفوظ ہوگی، قومی شاہراہ کو ڈاکوں کے رام و کرام پر چھوڑ دیا گیا،آئے روز مسافر وں سے لاکھوں روپے سے محروم ہوجاتے ہیں،لوٹ مار روز کا مامول بن چکی ہے رات تو دور کی بات دن کوقومی شاہراہ پرسفرکرنا بھی مشکل ہوگیا ہے،ڈاکوں کی لوٹ مارپر حکام کی خاموشی سمجھ سے با لاتر ہے۔رپور ٹ کے مطا بق نوتال سے سبی تک کی قومی شاہراہ سندھ پنجاب،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی مال بردار مسافر گاڑیوں کاقومی شاہراہ پرگزرنامشکل بن چکاہے اس شاہراہ پرپرائیوٹ مسافر گاڑیاں اور وی آئی پی سرکاری آفسیران کی مومنٹ بھی ایسی شاہراہ سے ہوتی ہے مگرگزشتہ چند ماہ سے اس شاہراہ پر سفرکرنے والوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوچکی ہے، دن اور رات کے اوقات میں یہاں سے گزرنے والی مسافر گاڑیوں پردس سے بارہ مسلح ڈاکوں فائرنگ کرکے گاڑیوں کو روک کر مسافر وں سے لوٹ مار شروع کردیتے ہیں جس میں نقدی موبائل فونز اور دیگر سامان لوٹ کرکے فرار ہوجاتے ہیں ڈاکوں اتنے بے راحم ہوتے ہیں کہ وہ خواتین کوبھی معاف نہیں کرتے ان کے موبائل اور دیگر قیمتی سامان چھین کربا آسانی فرار ہوجاتے ہیں۔دن کے اوقات میں ڈاکوں کو لوٹ مار کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے جس میں وہ شاہراہ کے ساتھ مورچہ بند ہوکرگاڑیوں کے قریب آتے ہی اچانک شاہراہ پر نمودار ہوتے ہیں اورچند منٹوں میں چار سے چھ گاڑیوں کی لوٹ مار کر نے کے بعد جدید اسلحہ کے ساتھ اپنے موٹرسائیکلوں پر فرار ہوجاتے ہیں، جبکہ وی آئی پی سرکاری آفسیران کا گزر بھی ایسی شاہراہ سے ہوتا ہے جو متعدد مرتبہ ان ڈاکوں کے بھینٹ چڑ ھ گئے ہیں جو اپنے قیمتی سامان سے محروم ہوجاتے ہیں اور اپنی عزت نفس کی وجہ سے وہی آفسیران اپنے ساتھ پیش آنے والے واقع کی رپورٹ درج نہیں کراتے ہیں۔اس شاہراہ پر گزشتہ کئی سالوں سے نیشنل ہائی وے پولیس سمیت آپریشن پولیس اور لیویز فورس کے متعدد تھا نے اور موبائل گشت موجود ہے مگر اس کے باوجود روز انہ مسافر گاڑیوں کی لوٹ مار ہونا منتق کے بالا تر ہے اور حکام کی خاموشی سے ڈاکوں کے حوصلے مزید بلند ہورہے ہیں جو دن رات اپنی کاروائیوں میں تیزی لاتے جارہے ہیں عوامی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نوتال سے سبی تک گزرنے والی قومی شاہراہ کو عوامی سفرکے لئے محفوظ بنایا جائے اور اس میں ملوث کتنے ہی بااثر ڈاکوں کیوں نہ ہوں ان ڈاکوں کو گرفتارکرکے قرار واقعی سزا ء دی جائے تاکہ یہاں پر مسافر اور مال بردار گاڑیوں کا سفر محفوظ ہو سکیں۔


