بلوچستان میں دہشتگردی پر نہ وفاق کو احساس ہے نہ ہمارے نمائندوں کو، مولانا لونی

کوئٹہ:جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی نائب امیر مولاناعبدالقادرلونی مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین مرکزی سنئیر نائب امیر مولانا عبدالروف مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ صوبائی نائب امیر مولانا محمدحیات صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبیداللہ حقانی صوبائی سرپرست مولاناخدائے نظر صوبائی جوائنٹ سیکرٹری میر مبارک خان محمدحسنی صوبائی نائب امیر مولاناخدائے نظر صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولوی رحمت اللہ حقانی ودیگر نے کہا کہ بلوچستان ایک یتیم اور لاوارث صوبہ ہے دہشت گردی کے دالخراش سانحات پر نہ وفاق کو احساس ہوا ہے اور نہ ہمارے نمائندوں کو احساس ہواہے اور میڈیا نے بھی بلوچستان کی سانحات پر ہمیشہ چپ کا روزہ رکھا ہے دیگر صوبوں میں دھماکہ ہوتا ہے تو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث اور مذمتیں ہوتی ہے اور رپورٹ سامنے آتی ہے لیکن بلوچستان میں 80 اسی لاشوں اٹھانے پر مذمت تک نہیں ہوتی ہے اور نہ تحقیقات سامنے لائی جاتی ہے اور یہاں کی صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے سانحات نے بلوچستان کے دل پر وہ زخم چھوڑے جو یہ خلا کئی دہائیوں تک پورا نہ ہو پائے گابیدردی سے بلوچستان کو معماران نسل سے محروم کیا گیا اس نے بلوچستان کوصدیوں پیچھے اور تباہی کے طرف دھکیل دیا تو ایسے سانحات پر قومی اسمبلی اور سینٹ اور میڈیا نے بلوچستان کو ایک یتیم اور لاوارث صوبہ سمجھا ہے صوبے کی بدقسمتی ہے کہ ایسے نمائندوں کو براجمان کیا ہے جن کو بلوچستان کی درد کا کوئی احساس نہیں انہوں نے کہا کہ سائنس کالج دھماکہ تین ہفتے گزرنے کی باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت نے مکمل خاموشی کی چادر اوڑھ لیاہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بلوچستان کے غمخوار نہیں میڈیا بھی صرف ایک صوبے کی خبروں میں آزاد ہے اور بلوچستان کی خبروں پر بھی میڈیا کی ہاتھ پاں بندھ چکے ہیں ایک درجن سے زائد اداروں کا کردار کیا ہے انہوں نے کہا کہ صبر کے پیمانے لبریز ہو چکا اب جلد وزیراعلی ہاس کے سامنے کفن پوش دھرنا ہوگا کارکن دھرنے کی تیاریاں شروع کرے صبر کا دامن بہت تھاما تھا اور مزید صبر ختم ہوچکا نہ ختم والے دھرنا ہوگا اور پورے بلوچستان کی سڑکوں پر دما دم مست قلندر ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن لاوارث نہیں ہم کارکنوں کی خون کا حساب ضرور لینگے تمام ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کو یہ معلوم ہو کہ ہم مجرموں کی گرفتاری تک اب چھین سے نہیں بیٹھے گی وفاقی اور صوبائی حکومت کے بے حسی نے ہمیں دھرنے پر مجبور کردئیے دیگر صوبوں میں دھماکہ ہوتے ہے تو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث اور مذمتیں ہوتی ہے اور وزیر داخلہ رپورٹ سامنے لاتی ہے لیکن بلوچستان کو کس گناہ کا سزا دیا جارہا ہے قومی اور سنیٹ میں تو مذمت نہیں ہوتی ہے یہاں تو وزیراعلی بھی خواب خرگوش میں سوئے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں