لورالائی کو فوری طور پر گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے ،عوامی حلقے

لورالائی: لورالائی کو فوری طور پر گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائی بصورت دیگر قدرتی جنگلات کا جس بیدردی کے ساتھ مکمل صفایا ہو رہا ہے اس سے ماحول تباہ اور کم بارشوں کی وجہ سے زراعت کا نام و نشان نہیں رہے گا اور لوگ صاف پانی کی جس کمی کا شکار ہیں اسمیں مزید کمی و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لورالائی کے جنگلات جنمیں تور خیزی کوہار اور انمبار کی مکمل کٹائی ہوچکی ہے اور اب بھی اسے بے دریغ کاٹا جارہا ہے عوام کا اور کوئی ایندھن کا زریعہ نہ ہونے کہ وجہ سے مقامی لوگ اور دیگر اپنی ضروریات کیلئے جنگل کاٹنے پر مجبور ہیں موجودہ حکومت کا کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام کے تحت دس ارب کے جو درخت لگائے جارہے ہیں وہ خوش آئند عمل ہے لیکن اسکے ساتھ قدیمی جنگلات کو محفوظ بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے لورالائی کو بے نظیر شہید کے دور میں اس وقت کے قومی اسمبلی کے رکن مرحوم حاجی گل محمد دمڑ نے پلانٹ کی منظوری مشرف دور میں سابق نگراں وفاقی وزیر سردار سکندر حیات جوگیزئی نے پائپ لائن کی منظوری اور میاں نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر مرحوم مولانا امیر زمان نے گیس پلانٹ منصوبے کا افتتاح کیا لیکن منصوبوں کا ابھی تک نام و نشان نہیں اور یہ منصوبے ادھورے رہ جانے سے اہلیان شہر اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں اب موجودہ رکن قومی اسمبلی سردار اسرار ترین اور صوبائی وزیر حاجی طور اتمان خیل اس حوالے سے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی بلوچستان سے ادھورے کام کی دوبارہ شروعات کو یقینی بناکر گیس منصوبے کا آغاز کریں یہ ایک اجتماعی اور عوامی مسئلہ ہے جس کیلئے ترجیہی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے گیس بلوچستان کی ملکیت ہے اس سہولت سے پورا ملک فائدہ حاصل کر رہا ہے لیکن ہمارے صوبے اور خاص کر ژوب ڈویژن بمقام لورالائی اس سہولت سے پچاس سالوں سے محروم ہے ہمارے ملک کے ائین میں یہ بات درج ہے کہ جہاں قدرتی معدنیات دریافت ہونگے سب سے پہلے اسی علاقے کے عوام کو اسکی سہولت ملیگی اور روزگار کے مواقع پر بھی مقامی ابادی کے افراد کو تعینات کیا جائیگا لیکن ہم اپنے ہی بنائے گئے ائین کی پامالی کررہے ہیں لورالائی کے تمام سیاسی سماجی اور قبائلی لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس اہم نوعیت کے مسئلہ کو ہر فورم پر اٹھا ئیں اور اپنے عوامی نمائندوں کے زریعے اس حل کرنے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو قوی ممکن ہے کہ بہت جلد عوام کا یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جائیگا محکمہ جنگلات کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر قدرتی جنگلات کی کٹائی کو روکھیں ملک و صوبے میں جنگلات کے خاتمے کے باعث ماحولیات پر بڑا اثر پڑا ہے اور بارش کا برسنا انتہائی کم ہوتا جارہا ہے جسکی وجہ سے ہمیں پانی جیسی نعمت سے بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہماری زراعت بھی ختم ہونے کو ہے لہذا ہمیں سر جوڑ کر اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیئے

اپنا تبصرہ بھیجیں