تربت یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ماسٹر پروگرام میں طالبعلموں کو داخلے فراہم نہ کرنا قابل مذمت ہے,بساک

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی مکران بھر میں وہ واحد تعلیمی ادارہ ہے جہاں دوردراز کے طالب علم اپنے خواب سنوارنے اس درسگاہ کا رخ کرتے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ شروع دن سے اپنے غیر آئینی اور تعلیم دشمنی کے راستے پہ عمل پیرا ہوکر ہرسال سینکڑوں طالبعلموں کیلیے علم کے دروازے بند کرنے کی روش پہ قائم ہے. بیچلر اور ماسٹر ڈگری میں داخلہ لینے کے امیدواروں کے کبھی نام میرٹ لسٹ سے ہٹائے جاتے ہیں تو کبھی ان کے داخلہ فارم مسترد کردیئے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سال بھی یونیورسٹی کی جانب سے ماسٹر ڈگری کیلیے داخلوں کا اعلان کیا گیا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ امیدواران جن کے نتائج آنا باقی ہیں وہ بھی داخلہ لینے کےلیے اہل ہیں. سینکڑوں طالبعلموں نے اپنے داخلے فارم اسی امید کی بنیاد پہ جمع کیے تھے. طالبعلموں سے داخلہ کے بھاری فیس لیکر یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ہی قول سے مکر گئی ہے کہ وہ اب ان طالبعلموں کو داخلے نہیں دے گا جن کے نتائج نہیں آئے ہیں.

مرکزی ترجمان نے انتظامیہ کے اس فعل کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں ” ہوپ سرٹیفکیٹ” کی بنیاد پہ داخلے لئے جاتے ہیں. لیکن تربت یونیورسٹی کی جانب سے "ہوپ سرٹیفکیٹ” کی بنیاد پہ داخلے لینے والے امیدواروں کے ناموں کو مسترد کیا گیا جو سراسر علم دشمنی کے زمرے میں آتا ہے. واضح رہے امتحانات کے نتائج بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جاری نہیں ہوپا رہے. یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طالبعلموں کو ہوپ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پہ داخلے فراہم کرے یا پھر جلد از جلد بیچلر امتحانات کے نتائج کا اعلان کرے تاکہ طالبعلم اپنے تعلیمی سلسلے کو قائم رکھ سکیں. بصورت دیگر طالبعلم اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی طریقہ کار اپنائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں