ڈاکٹر ربابہ بلیدی سے صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام کی ملاقات

کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے یہاں صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام نے ملاقات کی اور بلوچستان میں انسداد ہراسگی کے حوالے سے ہونے والے اقدامات سے آگاہ کیا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو ہراسگی کے واقعات میں انصاف کی فراہمی کے لئے صوبائی خاتون محتسب سیکرٹریٹ کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے بلکہ روایتی مائینڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی پاکستان میں صنفی بنیادوں پر تشدد، وراثت کے حقوق کا تحفظ اور کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کے انسداد کے لئے قوانین موجود ہیں تاہم ان قوانین پر عمل درآمد کا فقدان ہے ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد کے لئے خواتین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خاتون محتسب سیکرٹریٹ کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہراسگی کی روک تھام کے لئے موثر و جامع اقدامات اٹھائے جاسکیں انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں عدالت عالیہ پاکستان انسداد ہراسگی قوانین کو موثر بنانے کے لیے احکامات جاری کرچکی ہے اور یہ بات سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریکارڈ پر موجود ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں انسداد ہراسگی سے متعلق محکمہ جاتی کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کی کارکردگی سے متعلق وزرات قانون بلوچستان نے رپورٹ طلب کرلی ہے وزارت قانون کی کوشش ہوگی کہ ہر محکمے اور ادارے میں انسداد ہراسگی کمیٹیوں کی فعالیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہراسگی کے شکار افراد دادرسی کے لئے متعلقہ فورم تک باآسانی پہنچ سکیں اس ضمن میں ضروری ہے کہ اداروں کے سربراہان انسداد ہراسگی کے لئے مرتب کردہ کوڈ آف کنڈیکٹ اپنے دفاتر میں نمایاں جگہ پر آویزاں کریں انہوں نے کہا کہ خواتین جامعات سمیت تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں انسداد ہراسگی قوانین پر مکمل عمل درآمد کے حوالے سے گائیڈ لائن جاری کی جاچکی ہے اس لئے اداروں کے سربراہان کا فرض ہے کہ وہ ان پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بناکر خوا تین کو محفوظ ماحول فراہم کریں اس موقع پر خاتون محتسب صابرہ اسلام نے پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو اپنے ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے کیسز میں کسی بھی طرح کے دباو یا اثر و رسوخ کے قطع نظر ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے ملزم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے صابرہ اسلام نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں انسداد ہراسگی کے لئے شعوری آگاہی کی ترویج پر کام جاری ہے اور اس کا دائرہ کار بتدریج بڑھایا جاررہا ہے خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملہ پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن ہیں اور اس ضمن میں کسی سے کوئی رعایت روا نہیں رکھی جا سکتی صابرہ اسلام نے اس امید کا اظہار کیا کہ انسداد ہراسگی قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے وزرات قانون کی معاونت سے بلوچستان میں جاری اقدامات کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں