پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے،بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن

کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ا یشن کے صدر عبدالمجید کاکڑ، سینئر وائس پریزیڈنٹ واجہ ظہور بلوچ، وائس پریزیڈنٹ راشدرحمن، وائس پریذیڈنٹ ژوب زون کمال ناصر، جنرل سیکریٹری منظور بنگلزئی، جوائنٹ سیکریٹری صابرہ ارباب، فائنانس سیکریٹری عمران خان کاکڑ، لائبریری سیکریٹری عبدالعزیزاچکزئی بمعہ ایگزیکٹیو کابینہ عبدالمالک مینگل، نعیم مری، عبدالرحیم کاکڑ، محمد عاصم، نور بخش اور کلیم اللہ اچکزئی نے بلوچستان کے طلبا کے ساتھ لاہور انتظامیہ کی جانب سے تشدد اور انہیں زدکوب کرنے اور انہیں ہاسٹلوں سے بے دخل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور انتظامیہ نے بلوچستان کے زیرتعلیم بلوچ پشتون طلبا کی زندگی اجیرن بنا دی ہے بلوچستان کے طلبا پر آئے روز تشدد اور انہیں تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کی سازش ہے بیان میں کہا کہ عرصہ دراز سے بلوچستان کے طلبا پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے کبھی خود جاکر ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبا کو رات کے وقت گرفتار کرکے ان پر تشدد کرتے ہے بیان میں کہا کہ گذشتہ دنوں لاہور میں مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے بلوچستان کے طلبا پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں وہ عدم کا شکار ہیں بیان میں وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ لاہور اور پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کے تحفظ کو یقینی بنائیں ہم بطور ہائی کورٹ بار پنجاب کے تمام بار باڈیز سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کو نوٹس لے اور ہم پنجاب کے حکومت کو یاد دانی کراتے ہیں کہ ہم بطور چھوٹے بھائی کے اپ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے ہاں یسا روڈ نہیں ایسی گلی نہیں جہاں دھماکہ نہ ھوا ھو لیکن کبھی بھی انتظامیہ نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیا ہے خدا را ایسا ماحول پر پروان چھڑانے سے روکے اور بلوچستان کے طلبا پر پولیس کی تشدد کا فوری نوٹس لیں اور انتظامیہ اپنا رویہ قوم کے معمارو سے درست کریں اس طرح کے ھتکنڈوں سے دنیا میں ھماری کیا معیار رہ جاے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں