جمہوری سسٹم کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذ کی بازگشت نے سیاسی مداریوں کا پول کھول دیا ہے،عبدالکریم نوشیروانی
کوئٹہ : بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری سسٹم کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذ کی بازگشت نے سیاسی مداریوں کا پول کھول دیا ہے۔ عوام پر ایک بار پھر بڑی ذمہ داری آرہی ہے کہ وہ سیاسی مداریوں کا احتساب کریں اور آئندہ عام انتخابات میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے مخلص ایماندار اور سیاسی کیڈر میں اچھی شہرت رکھنے والے سیاستدانوں کو آگے لائیں۔ جب تک ملک کے 22کروڑ عوام تمام سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ نہیں کریں گے اس وقت تک نہ ملک میں جمہوریت پھیلے گی اور نہ ہی ملک ترقی کریگا۔ ڈمی سیاست کا خاتمہ اب ناگزیر ہے حقیقی اور مخلص سیاستدان ہی اس ملک اور عوام کے بہتر مفاد میں ہے اب تک پاک افواج اور اداروں نے ہی ملک کو کندھا دے رکھا ہے۔ ڈمی سیاستدانوں نے تو عوام کے مفاد کو ایک طرف رکھ کر اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور بیرون ملک لوٹی ہوئی رقم سے جائیدادیں بنائی ہیں۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ پاکستان کو تجربہ گاہ بنادیا گیا ہے ڈمی سیاست نے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو آج جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ایک کے بعد دوسرے کی باری نے ملک میں جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا ان سیاستدانوں نے اپنی اپنی باری میں پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ملکی اور عوام کے مفاد کو کسی نے بھی اہمیت نہیں دی صرف اپنے مفاد اور پیٹ کو ان لوگوں نے دیکھا۔ نان کیڈر سیاست نے پاکستان میں جمہوریت کو تہس نہس کردیا ہے اور 2018کے الیکشن کے بعد اب جمہوری نظام اپنی معیاد پوری کرنے سے قبل ہی صدارتی نظام کی باز گشت نے ڈمی سیاست اور مداریوں کا پول کھول دیا ہے۔ میں پاک فوج اور اداروں جنہوں نے اس ملک کی سلامتی اور بقاء کی قسم کھا رکھی ہے کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ اب تک اس ملک و قوم کے بہتر مفاد کے لئے کھندھا دیئے ہوئے ہے ورنہ اس ملک کے کرپٹ سیاستدانوں نے تو جمہوریت کو بدنام کرنے اور لوٹ مار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام آئندہ عام الیکشن میں ان کرپٹ اور ڈمی سیاستدانوں کا احتساب کرکے اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور محب وطن ایماندار مخلص اور اچھی شہرت کے حامل سیاستدانوں کو آگے لائیں۔ تب جاکر پاکستان میں نہ صرف جمہوریت و جمہوری ادارے مضبوط ہونگے بلکہ پاکستان بھی ترقی و خوشحالی کی منازل طے کریگا۔ جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ یقیناً 22کروڑ عوام پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ورنہ جمہوری نظام اسی طرح ڈراپ ہوتا رہے گا۔ جس کا یہ ملک اور عوام دونوں متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کرپشن ختم ہوسکتی ہے۔


